جاوید رانا نے بارہمولہ ،سوپور اور رفیع آباد حلقوںکے کلیدی مسائل کا جائزہ لیا

سری نگر//وزیربرائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور جاوید احمد رانا اور وزیربرائے زراعت و دیہی ترقی جاوید احمد ڈار نے آج بارہمولہ، سوپور اور رفیع آباد حلقوں میں ترقیاتی چیلنجوں اور عوامی فلاح و بہبود کے مسائل کا میٹنگ میں جامع جائزہ لیا اور ان کو حل کیا۔ میٹنگ میں اہم شراکت داروں بشمول رُکن اسمبلی سوپور اِرشاد رسول کار اورممبر اسمبلی بارہمولہ جاوید حسن بیگ کے علاوہ مختلف محکموں کے سینئر اَفسران نے شرکت کی۔شرکأ میں ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ، چیف اِنجینئران جل شکتی اور آبپاشی و فلڈ کنٹرول کشمیر، ان کے متعلقہ سپراِنٹنڈنگ انجینئران، ایگزیکٹیو اِنجینئران اور اسسٹنٹ ایگزیکٹیو اِنجینئران شامل تھے۔اِس کے علاوہ کنزرویٹر آف فارسٹ، نارتھ سرکل سوپور اور دیگر ڈویژنل اور ضلعی سطح کے اَفسران بھی موجود تھے۔ دورانِ میٹنگ وزیر جاوید رانا نے تینوں حلقوں میں تیز رفتار اور جامع ترقی کے لئے ایک روڈ میپ پیش کیا اور اس بات کو یقینی بنانے پر خصوصی زور دیا کہ تمام جاری اور آئندہ منصوبوں کو بروقت، مؤثر اوردیرپا طریقے سے مکمل کئے جائیں۔اُنہوں نے زور دیا کہ مکمل شدہ واٹر سپلائی سکیموں کو فوری طور پر فعال کیا جائے تاکہ ان کے فوائد لوگوں تک جلد از جلد پہنچ سکیں۔وزیر جاوید رانا نے وسائل کے مؤثر اِستعمال کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے چیف اِنجینئر جل شکتی کو ہدایت دی کہ وہ اَفرادی قوت اور مشینری کی تعیناتی کے لئے ایک مربوط منصوبہ تیار کریں تاکہ زمین پر کام کی رفتار میں بہتری لائی جا سکے۔اُنہوں نے موجودہ واٹر سپلائی سکیموں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ان کی طویل المدتی دیرپائی اور خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر موصوف نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر مجوزہ اَپ گریڈ کے لئے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈِی پی آر) پیش کریں تاکہ بروقت منظوری اور منصوبہ بندی میں آسانی ہو۔ اُنہوں نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں معیار کی نگرانی کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فیلڈ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ باقاعدگی سے سائٹ کا معائینہ کریں اور اِس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام کام تکنیکی معیار کے مطابق مکمل ہوں۔جاوید احمد رانا نے پینے کے پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے علاقوں میں پانی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بارہمولہ اور سوپور کے پانی کی قلت والے علاقوں میں اِضافی واٹر ٹینکروںکی فراہمی کی منظوری دی۔اُنہوں نے پانی کے تحفظ کے طریقوں کو اَپنانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پانی کے وسائل کادیرپا طریقے سے منظم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باوجود طویل المدتی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر جل شکتی نے عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کے ماحولیاتی لحاظ سے ذمہ دار اور جامع ترقی کے ویژن کو اُجاگر کرتے ہوئے زیرِ اِلتوأ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لئے فارسٹ کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ ترقی اور ماحولیاتی تحفظ ساتھ ساتھ چلنے چاہئیں اوربنیادی ڈھانچے کی کمی کو پورا کرتے ہوئے ماحولیاتی تقاضوں کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔وزیر موصوف نے محکمہ جنگلات کو ہدایت دی کہ جموں و کشمیر بھر میں بالخصوص موسم سرما کے پیش نظر لوگوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایندھن کی لکڑی کی وافر فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔اُنہوں نے حکومت کے جامع ترقی اور سماجی انصاف کے عزم کے مطابق شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) طلبأ کو منظور شدہ وظائف کی بروقت تقسیم کی ہدایت دی۔جاوید رانانے اس بات پر زور دیا کہ جنگلات میں رہنے والے اور قبائلی کمیونٹیوں کو فلاحی سکیموں اور فوائد تک مکمل رسائی دی جائے تاکہ پسماندہ آبادی کی سماجی و اِقتصادی حالت کو بہتر بنایا جا سکے۔دوران میٹنگ وزیر برائے زراعت جاوید احمد ڈار نے پانی کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے کئی تجاویز پیش کیں۔اُنہوں نے تکنیکی ترقی اور بہتر اِنتظامی طریقۂ کار کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔اُنہوں نے بعض اِنتظامی مسائل کی نشاندہی بھی کی جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی خدمات کی بغیر کسی رکاوٹ کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔رُکن قانون ساز اسمبلی سوپور اِرشاد رسول کار نے اپنے حلقے سے متعلق متعدد مسائل اُٹھائے۔اُنہوں نے نہری زنگیر کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا جو سوپور، رفیع آباد اور بانڈی پورہ میں کئی سکیموں کو پانی فراہم کرتی ہے۔یہ نہر علاقے میں آبپاشی اور باغبانی کے لئے بھی نہایت اہم ہے۔ اُنہوں نے پانی کی مسلسل اور مؤثر فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے مقامی پائپنگ نیٹ ورک کو مضبوط بنانے اور سوپور میں نہری نظام کی مکمل صفائی کا مطالبہ کیا تاکہ رُکاوٹوں سے بچا جا سکے اور پانی کا بہاؤ بہتر ہو۔دریں اثنا،رُکن اسمبلی بارہمولہ جاوید حسن بیگ نے پی ایم جی ایس وائی اور آر اینڈ بی کے تحت بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی منظوری میں تاخیر کی طرف توجہ مبذول کی اور اس کی وجہ زیر اِلتوا ٔ فارسٹ کلیئرنسز کو قرار دیا۔اُنہوں نے ان منظوریوں میں تیزی لانے کے لئے وزیر موصوف سے مداخلت کی درخواست کی۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے بارہمولہ اور ملحقہ علاقوں میں نہروں کی صفائی اور پرانی مشینری کی جگہ نئی یا اَپ گریڈ مشینری فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اہم انفراسٹرکچر کی فعالیت برقرار رکھی جا سکے۔اُنہوں نے اَپنے حلقے میں قبائلی ترقی کی صورتحال پر بھی تشویش کا اِظہار کیا اور قبائلی کمیونٹیوں کی سماجی و اِقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے مخصوص فلاحی اَقدامات کا مطالبہ کیا۔کابینہ وزیر جاوید احمد رانا نے حکومت کے مربوط ترقی، ماحولیاتی ذمہ داری اور سماجی مساوات کے عزم کا اعادہ کیا۔اُنہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ قریبی تال میل کے ساتھ کام کریں ، زیر اِلتوا ٔکاموں کو جلد مکمل کریں اور ترقیاتی فوائد کو بغیر کسی تاخیر کے ہر طبقے تک پہنچائیں۔