تمل ناڈو کی مشہور اداکارہ اور سیاستداں گایتری رگھورام نے بی جے پی سے آج استعفیٰ کا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے منگل کے روز بذریعہ ٹوئٹ پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا اور بتایا کہ تمل ناڈو بی جے پی خواتین کو برابری کا حق اور احترام نہیں ملتا ہے۔ گایتری نے خصوصاً تمل ناڈو بی جے پی صدر کے. انّاملائی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ تمل ناڈو یونٹ میں خواتین محفوظ نہیں ہیں۔قابل ذکر ہے کہ نومبر 2022 میں گایتری کو پارٹی مخالف سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی سے معطل کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ گایتری کا کہنا ہے کہ تمل ناڈو بی جے پی کے سرکردہ لیڈران نے ان پر غلط الزام لگایا ہے۔ گایتری رگھورام کا کہنا ہے کہ تمل ناڈو یونٹ میں کسی کو بھی سچے کارکنان کی پروا نہیں ہے۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ پارٹی کے اندر خواتین کو برابر کا حق اور مواقع نہیں ملتے۔گایتری نے بی جے پی چھوڑنے کے بعد کئی ٹوئٹ کیے ہیں جن میں اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے ’’میں نے بھاری من کے ساتھ بی جے پی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ تمل ناڈو یونٹ میں خواتین کو برابر کا حق اور احترام نہیں دیا جاتا۔ تمل ناڈو بی جے پی چیف انّاملائی کی قیادت میں خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ مجھے زیادہ بہتر محسوس ہوگا اگر ایک باہری کے طور پر ٹرول کیا جائے گا۔‘‘ اس ٹوئٹ کو انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا اور قومی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش کو ٹیگ بھی کیا ہے۔اپنے ایک دیگر ٹوئٹ میں گایتری نے لکھا ہے ’’ان سبھی کارکنان کو شکریہ جن کے ساتھ میں نے آٹھ سال تک کام کیا، جن کے ساتھ میں نے بہت پیار اور احترام بانٹا۔ یہ ایک شاندار سفر تھا۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ گایتری رگھورام پیشے سے اداکارہ اور کوریوگرافر رہی ہیں۔ 2014 میں پی ایم مودی سے متاثر ہو کر گایتری نے سیاست میں قدم رکھا اور بی جے پی کی رکنیت حاصل کی تھی۔ پارٹی کی کلچرل وِنگ کی وہ چیف بھی بنیں۔ 23 نومبر 2022 کو ریاستی صدر نے انھیں پارٹی کو بدنام کرنے والی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے لیے چھ ماہ کے لیے معطل کر دیا تھا۔










