lg manooj sinha

تمام ہونہار طلباء کو ویلیو سسٹم کے ساتھ تعلیم فراہم کیلئے پُر عزم:ایل جی

جموں وکشمیر یوٹی میں 2021-22 ء میں سکولوں کے اِندراج میں 14.5 فیصد کا اِضافہ۔لیفٹیننٹ گورنر

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کے ایک حصے کے طور پر ’’ آئو سکول چلیں مہم ‘‘ کے تحت بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے ایک نئی اَنرولمنٹ مہم میں2020-21ء کے مقابلے 2021-22ء میں اِندراج میں 14.5 فیصد اِضافہ دیکھا گیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ 1,65,000 طلباء کو جموںوکشمیر یوٹی کے مختلف سکولوں میں داخل کیا گیا ہے ۔ محکمہ سکولی تعلیم کے منفرد اَقدام کے تحت ’تلاش ’ سروے کا آغاز کیا گیا۔اِس اَقدام سے 20 لاکھ بچوں کا سروے کیا گیا ہے اور ان میں سے 93,508 طلباء سکولوں سے باہر پائے گئے ہیں یا ان کا داخلہ نہیں ہوا ہے۔ مناسب عمر کے سکول سے باہر بچوں کو مرکزی دھارے میں لانے کا آغاز کیا گیا ہے ۔ ہم تمام ہونہار طلباء کو ویلیو سسٹم کے ساتھ تعلیم فراہم کرنے کے لئے پُر عزم ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ پری پرائمری اور پرائمری کلاسوں میں طلباء کے اِندراج کے لئے کمزور طبقات پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے جس میں خانہ بدوش بچے ، دُور دراز علاقوں کے بچے ، لڑکیاں اور ایس سی اور ایس ٹی زُمرے شامل ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس برس کم سے کم 100 بہترین اَساتذہ جموںوکشمیر یوٹی کے لیکچررس کو تربیت کے لئے یوٹی سے باہر بھیجا جارہا ہے جو ماسٹر ٹرینروں ، مینٹر ٹیچروں کے طور پر کام کریں گے اور نقشہ ساز بچوں کی علمی مہارت کو بہتر بنانے کے لئے کام کریں گے ۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا،’’ اساتذہ کی استعداد کار میں اِضافے کے لئے جموںوکشمیر یوٹی میں طالب علم اور اَساتذہ کی مشغولیت کے لئے ایک سٹوڈنٹ مینٹر شپ پروگرام شروع کیا گیا ہے جو تعلیمی اِداروں میں طلبہ کی کارکردگی پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور سیکھنے کے نتائج کو مضبوط کرتا ہے ۔ ایک منفرد پہل کے طور پر ماتری بھوجن یوجنا کو جموںوکشمیر یوٹی میں عملایا گیا ہے جس کے تحت مائیں پکے ہوئے کھانے کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے سکولوں کا دورہ کر رہی ہیں۔جموںاور سانبہ میں کمیونٹی کچن کے لئے اَکشے پاترا کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے ہیںاور اسے دوسرے اَضلاع میں بھی نقل کیا جائے گا۔‘‘اُنہوں نے کہاکہ 714سرکاری سکولوں میں داخل 70 ہزار طلباء کو 14 مختلف ٹریڈ ز میں پیشہ ورانہ تعلیم دی جارہی ہے ۔ رواں مالی برس کے دوران 803 ووکیشنل لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں اور 1,122 مزید لیبارٹریاں اور 1,352 سمارٹ کلاس رومز قائم کئے جارہے ہیں۔ 127 اَتل ٹنکرنگ لیبارٹریاں ( اے ٹی ایل ) اور 1,420 کمپیوٹر ایڈیڈ لرننگ ( سی اے ایل ) مراکز قائم کرنے کے لئے ایک اِنقلابی قدم اُٹھایا گیا ہے۔اِس عزم کو عملی شکل دینے کے لئے اِس برس500 اِضافی اَٹل ٹنکرنگ لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ جموںوکشمیر یوٹی میں 12 ویں جماعت کے فارغ التحصیل طلباء کو ہنر کی تربیت فراہم کرنے کے لئے ایچ سی ایل ٹیک بی کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے ہیں۔ ہماری کوشش قومی تعلیمی پالیسی کی سفارشات کے مطابق طلباء میں تخلیقی صلاحیت ، جستجو ، سائنسی مزاج ، کارباری اور اَخلاقی قیادت پیدا کرنا ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ مختلف اِصلاحات سے ہر سکول میں معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جارہا ہے اور کمیونٹی کی شراکت سے عالمگیر تعلیم کا خواب پورا ہو رہا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے مزید کہا ،’’ یہ صرف کسی سکول جانے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ایک اَچھے سکول کے بارے میں ہے ۔اِس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جموںوکشمیر یوٹی کے تمام سکولوں میں معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جارہاہے اور یہ ہمارے لئے اہم مقاصد میں سے ایک ہے ۔ حکومت دیگر مداخلتوں کے مؤثر عمل آوری کے لئے بھی پُر عزم ہے۔‘‘طلباء کی علمی صلاحیتوں کی تعمیر ، تجرباتی اور قابلیت پر مبنی سیکھنے کا اِستعمال کرتے ہوئے بہتر سیکھنے کے لین دین پر زور دیا جاتا ہے ۔ ’’ اِیچ وَن ٹیچ وَن ‘‘ مہم کے تحت پرائمری اور اَپر پرائمری طلباء اَپنے نوخواندہ کنبے کے اَفراد کو پڑھا رہے ہیں تاکہ وہ پڑھے لکھے بن سکیں اور سماگراہ شکھشا کی طرف سے ایک ماڈیول اور مواد پہلے تیار کر کے مستحقین میں تقسیم کیا جاچکا ہے۔