تاجرپریشان حال ،تجارت کوپٹری پر لانے کیلئے سرکار کوٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت
سرینگر / جموں وکشمیرمیں تجارت ایک خاصے ڈھنگ سے چل رہی تھی اور تجارت سے وابستہ افراد ہی دولت سمیٹنے اور گھریلو زندگی خوشحال چلانے کے علاوہ فلک بوس تعمیراتی ڈھانچے کھڑا کرنے اور شادی بیاہی پر تمام رسوم ورواج کو اپناتے ہوئے رقم کثیر خرچ کرتے تھے جبکہ سرکاری ملازمین یہاں کے تاجروں کا تعاقب کرنے یا ان کے برابر رہنے میں ناکام رہتے تھے کیونکہ کاروباری سرگرمیاںزوروں پرجاری تھیں اور لوگوں کی مالی و اقتصادی حالت میوہ صنعت ودیگر آمدنی کے وسائل کی وجہ سے بہتر تھی تاہم گذشتہ کئی برسوں سے مسلسل تاجروں کی تجارت بُری طرح متاثر ہے اورحالات معمول پر آنے کے باوجودبھی کاروباری سرگرمیاں بدستور متاثر ہیں جبکہ شہر وقصبہ جات میںخریداری نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس سلسلے میں وادی کے مختلف علاقوں سے تاجروں نے کشمیر پریس سروس کو بتایا کہ ماضی میںیہاں کی کاروباری سرگر میاں اب ایک افسانہ بنے ہوئے ہیں ۔حالانکہ تجارت ایک ایسا ذریعہ ہے جو تاجروں کے ساتھ ساتھ بے روزگاروں کے لئے ایک اہم وسیلہ ہے لیکن تجارت کافی حد تک متاثر ہوئی اور ابھی ان حالات سے نکلنے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حالات پٹری پر آنے کے باوجود بھی خریداری میں بدستور نمایاں کمی دیکھنے کو ملتی ہے اس کے بنیادی محرکات ہیں کہ مجموعی طور لوگوں کی مالی حالت ابتر ہے اور وہ خریداری کی سکت نہیں رکھتے ہیں ۔دوسری یہ کہ ایمزون یاد وسرے آن لائن تجارت نے روایتی اور مقامی تجارت کوایسا دھچکہ دیا ہے کہ گھر بیٹھے لوگوں کو ضرورت کی چیزیں میسر رہتی ہیں اوربلا وہ کیوں دکان پر جاکر وقت ضائع کریں ۔یہ آن لائن تجارت غورطلب اور قابل توجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں یا تاجروں نے اپنی تجارت وسیع کرنے کیلئے جو قرضہ بنکوں سے کمانے کیلئے لیاتھا ۔اس کا بنیادی مقصد فوت ہوا اور یہ لوگ خسارے کے شکار ہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ تاجر عام قرضوں اور بنک لونز کی وجہ سے اب پریشان ہو چکے ہیں ان حالات میں ان کا جینا محال بن گیا اور بنکوں کے قسطوں کی ادائیگی بھی ناممکن بن گئی جس کے شرح سود میں آئے روز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر جموںوکشمیر بنک نے قرضہ مکتی اسکیم کے تحت تاجروں کو راحت پہنچانے کا لائحہ عمل ترتیب دیا ہے لیکن اب تک وہ صرف کاغذات تک ہی محدود ہے کیونکہ عام تا جر یا صارف اس اسکیم سے متعارف نہیں ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے انتظامیہ اورسرکارسے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بنک قرضوں پر جمع ہوئے سود کو معاف کیا جائے اور ان کی باز آباد کاری کیلئے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ وہ ایک بار پھر اپنے ٹانگوں پر کھڑا ہوسکیں گے اور خود روزگار کماسکیں گے اور تجارتی سرگرمیاں ایک بار پھر ماضی کی طرح بحال ہونگے اور لونز کے حوالے سے رائج شدہ اسکیموں سے متعلق بھر پورجانکاری فراہم کی جائے تاکہ تاجر اپنا کاروبار ایک بار پھر سنبھال سکیں گے










