سری نگر//چیمبر آف آزاد پور دہلی فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ٹریڈرز کے صدر میتھا رام کرپلانی نے کشمیری پھل کاشتکاروں وتاجروںکی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ یہ ہمارا انسانی اور مذہبی فریضہ ہے کہ ہم کشمیر کے پھل کاشتکاروں کی حفاظت کریں۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق چیمبر آف آزاد پور دہلی فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ٹریڈرز کے صدر میتھا رام کرپلانی ، جو دہلی ایگریکلچرل مارکیٹنگ بورڈ کے رُکن اور کشمیر ایپل مرچنٹس ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں، نے اس کی کئی وجوہات بتائی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس سیزن میں سیب کی ایک معیاری اوربہت زیادہ پیداوار ہوئی، لیکن پچھلے سال کے مقابلے’ پیکیجنگ اور ٹرانسپورٹیشن‘ چارجز جیسے اخراجات تقریباً دوگنا ہو گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ چونکہ قیمتیں براہ راست رسد اور طلب سے منسلک ہیں، اور چونکہ سپلائی زیادہ ہے، اس لیے قیمتوں کی شرح تقریباً 30 فیصد کم ہے۔سوپور،شوپیان ،بڈگام اورجنوبی کشمیر کے پھل کاشتکاروں اورتاجروںکی تنظیموںکے ذمہ دار بشمول فیاض ملک عرف کاکہ جی اوربشیر احمدبابا کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے میتھا رام کرپلانی نے کہا کہ مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر میں باغبانی کی صنعت پر پوری توجہ دینی ہوگی جس میں ملک بھر میں روزگار پیدا کرنے کی بہت زیادہ صلاحیت ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ ہمارا انسانی اور مذہبی فریضہ ہے کہ ہم کشمیر کے پھل کاشتکاروں کی حمایت اور حفاظت کریں۔انہوںنے کہاکہ حکومت پیکیجنگ میں استعمال ہونے والی مصنوعات پر سبسڈی دے سکتی ہے، اچھے معیار کے گتے فراہم کر سکتی ہے، ٹرانسپورٹیشن چارجز طے کر سکتی ہے اور پھلوں کو لے جانے والے ٹرکوں پر ٹیکس ختم کر سکتی ہے۔’’ اگر اخراجات میں کمی آتی ہے تو کسانوں اور (سیب) کی تجارت سے منسلک افراد کو پریشانی سے بچایا جا سکتا ہے‘‘ ۔کرپلانی نے بینک قرضوں پر سود کی معافی اور کسانوں کے لیے نرم قرضوں کی وکالت کرتے ہوئے کہاکہ صورتحال ایسی ہے کہ کشمیری پھل کاشتکار اورتاجراس سیزن میں اپنے سرمائے کا ایک بڑا حصہ کھو سکتے ہیں اور قرضوں کی ماہانہ اقساط واپس کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیمبر باغبانی کے شعبے کو جدید بنانے کے لئے وادی میں باقاعدہ ورکشاپس کا انعقاد سمیت اپنا تجربہ شیئر کرنے کے لئے تیار ہے۔کرپلانی، جو پچھلی کئی دہائیوں میں کشمیر کا اکثر دورہ کرتے ہیں، نے پھلوں کی نقل و حمل کے لئے تمام باغات کو ڈھکنے والی میکادمیسڈ سڑکوں کی تعمیر، گاؤں کی سطح پر کنٹرولڈ ماحول (CA) کولڈ اسٹورز قائم کرنے اور کسانوں کو درجہ بندی کے لیے جدید ترین مشینری نصب کرنے کی ترغیب دی۔انہوںنے ٹیکس سے بچنے کیلئے ایران کے راستے افغانستان سے درآمد کیے جانے والے سیب پر ڈیوٹی عائد کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرکزی حکومت کا کام ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ملک میں کسان اپنی پیداوار صحیح قیمت پر فروخت کر سکیں۔انہوںنے کہاکہ کشمیری سیب بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک کو بھی برآمدکئے جاتے ہیں۔ حکومت کو متعلقہ حکومتوں کے ساتھ مسئلہ اٹھانے کے بعد مصنوعات کو ڈیوٹی سے پاک اشیاء میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیں۔










