election

بلدیاتی اداروں کے چنائو سے متعلق مرکزی سرکار تذبذب کی شکاری

اگلے سال تک مؤخر ہونے کا امکان،وزیر داخلہ کی صدارت میں 26ستمبر کو منعقد ہونیوالی میٹنگ میں ہوگا حتمی فیصلہ

سری نگر//مرکزی سرکار جموں کشمیر میں بلدیاتی اداروں کے چنائو سے متعلق تذبذب کی شکار ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق جموں کشمیر میں بلدیاتی چنائو کو اگلے سال تک مؤخر کیا جاسکتا ہے۔ کشمیر نیوز سروس کو مصدقہ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ مرکزی سرکار جموں کشمیر میں بلدیاتی اداروں کے چنائو سے متعلق ابھی تذبذب کی شکار ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے حالیہ اعلان جس میں انہوں نے رواں سال کے آخر تک جموںکشمیر میں بلدیاتی چنائو کو منعقد کرنے کی حامی بھر لی تھی، تاہم ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر مرکزی سرکاریو ایل بی چنائو کو اگلے سال تک مؤخر کرنے پر غور و فکر کررہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ راجوری اور کوکرناگ معرکوں کے بعد وادی کشمیر میں سیکورٹی صورتحال پر مرکزی سرکار کی گہری نگاہ ہے جس کے پیش نظر حالیہ ملی ٹینٹوں کے حملوں میں مارے گئے فوجی و پولیس افسران کی ہلاکتوں کے بعد رواں برس بلدیاتی چنائو کے انعقاد کا کم ہی امکان نظر آرہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چنائو کے پرامن انعقاد کیلئے مرکزی سرکار کو معقول سیکورٹی بندوبست کا اہتمام کرنا پڑتا ہے جو کہ ایک انتہائی کٹھن امر ہے کیوں کہ سال 2024کے اپریل یا مئی میں پارلیمانی چنائو منعقد ہونے جارہے ہیں جس کیلئے مرکزی سرکار کو سیکورٹی کی خاصی تعداد درکار ہے۔ اگر چہ سال رواں کے آخر پر یو ایل بی الیکشن منعقد کئے جائیں گے تو اس چنائو کے پرامن انعقاد کیلئے مرکزی سرکار کو سیکورٹی انتظامات سے متعلق دوگنی محنت کرنی پڑے گی جو کہ موجودہ صورتحال میں ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حالیہ راجوری اور کوکرناگ حملوں نیز سرینگر میں سی آر پی ایف گاڑی پر ایک نوجوان ملی ٹینٹ کی پستول سے گولیاں چلانے کے واقعات کے بعد مرکزی سرکار نے من بنالیا ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں کے چنائو کو فی الحال مؤخر کرے گی اور اولین فرصت میں فی الحال پارلیمانی چنائو کیلئے تیاریوں کو حتمی شکل دے گی۔ انہوں نے کہا کہ جونہی پارلیمانی چنائو منعقد ہوں گے، تو اس کے بعد ہی جموں کشمیر میں یو ایل بی چنائو، بی ڈی سی، ڈی ڈی سی کے الیکشن منعقد کئے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اسمبلی چنائو کا انعقاد فی الحال معدوم ہی نظر آرہا ہے کیوں کہ سرکار پہلے لوک سبھا چنائو، پھر یو ایل بھی، پھر بی ڈی سی اور اس کے بعد ڈی ڈی سی چنائو کا انعقاد عمل میں لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی الیکشن کا انعقاد بقیہ تمام الیکشنوں کے بعد عمل میں لایا جائے گا جس پر فی الحال کوئی بات نہیں ہورہی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ سرکار کے پاس کئی منصوبے زیر غور ہے جن میں یو ایل بی،بی ڈی سی اور ڈی ڈی سی چنائو کو پنچایتی چنائو کی طرح منعقد کرانے پر غور و فکر ہورہا ہے۔ انہوںنے بتایا کہ جس طرح ملک کی دیگر ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں عام لوگ بی ڈی سی اور ڈی ڈی سی چنائو میں حصہ لیکر اپنے نمائندوں کا انتخاب عمل میں لاتی ہے ، عین اُسی طرح جموںکشمیر میں بھی لوگوں کو ان چنائوں میں حصہ لینے کا منصوبہ سرکار کے زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر اور جموں شہروں کیلئے میئر کے انتخاب میں بھی ایک بڑی تبدیلی کی جارہی ہے جس کے مطابق مستقبل میں اب کارپوریٹروں کے بجائے عام لوگ میئر کا انتخاب کیا کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی تبدیلی جموں کشمیر میںزمینی سطح پر وسیع تبدیلی لائے گی اور اس سے جمہوریت کو مزید مضبوطی ملے گی۔ خیال رہے 26ستمبر کو وزیر داخلہ امیت شاہ کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہونے جارہی ہے جس میں شمال بھارت کی ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں شرکت کررہے ہیں۔ میٹنگ میں جموںکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا، ڈی جی پی دلباغ سنگھ کے علاوہ کئی اعلیٰ افسران شرکت کررہے ہیں جو وزیر داخلہ کو جموں کشمیر کی موجودہ سیکورٹی صورتحال سے باخبر کریں گے۔ ذرائع کے بقول میٹنگ کے دوران جموں کشمیر سے متعلق کئی اہم فیصلے لیے جائیں گے جن میں جموں کشمیر پولیس کے نئے ڈی جی پی کی تقرری پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔