ali mohammad sagar

بجلی فیس میں پے در پے اضافہ ،ریکارڈ توڑ بے روزگاری

عوام کیلئے باعث پریشانی ،مقامی نوجوانوں کے ساتھ انصاف کیا جائے /علی محمد ساگر

سرینگر //جموںوکشمیر میں بڑھتی ہوئی ریکارڈتوڑخصوصاً قوم کے پڑھے لکھے نوجوان پود کی بے روزگاری پرزبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ 14لاکھ سے زائد ہماری نوجوان پود بے روزگاری کی وجہ سے ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوئے ہیں اور اپنے والدین کیلئے بوجھ بن گئے ہیں ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان میں علی محمد ساگر نے کہا ہے کہ ایک طرف یہاں بے روز گاری کا گراف بڑھ رہا ہے ۔دوسری طرف نوجوانوں کے لئے روزگار کے تمام دروازے بند کئے گئے ہیں جبکہ جموںوکشمیر ولداخ کے مقامی پڑھے لکھے نوجوانوں کے بجائے باہر کے لوگوں کو ملازمت درپردہ فراہم کئے جاتے ہیں جو آئین ہند کے بالکل منافی اور ناقابل برداشت اورناانصافی ہے ۔انہوں نے وسطی ،شمالی اورجنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے بے روزگار نوجوانوں کی ایک وفد کے ساتھ ان باتوں کا اظہار کیا ہے ۔اتنا ہی نہیں بلکہ بجلی صارفین نے اپنی بلیں لیکر علی محمد ساگر کے پاس گئے اوران سے کہا کہ پے در پے ان کے بجلی فیس میں اضافہ کیا جارہا ہے جوان کی بساط میں نہیں ہے اورانہوں نے کہا ہے کہ وہ غریب ولا چار ہیں اور بت کاری کے دور سے گذر رہے ہیں ۔ ساگر نے اس ضمن میں انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ غریب عوام کے بجلی فیس میں کمی کریں ۔انہوں نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے موجودہ انتظامیہ جس میں سب کے سب باہر کے حکام میں کشمیر ی لوگوں کی حق آواز سننے سے غیر سنجیدہ اور غفلت شعاری سے کام لیتے ہیں ۔ساگر نے پینے کے پانی کی نایابی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور حکام پر زور دیا کہ وہ پانی کی سپلائی کو یقینی بناکر عوام کو راحت پہنچانے میںکلیدی رول ادا کیا ہے ۔