ایس کے آئی سی سی میں دو روزہ ٹوراِزم ڈیولپمنٹ کنکلیواِختتام پذیر

ایس کے آئی سی سی میں دو روزہ ٹوراِزم ڈیولپمنٹ کنکلیواِختتام پذیر

سری نگر//شیر کشمیر اِنٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں منعقدہ دو روزہ ٹورازم ڈیولپمنٹ کنکلیو۔ 2024 ء کے اِختتامی تقریب میں جموں و کشمیر میں سیاحت کی بحالی کے مقصد سے بصیرت افروز تبادلہ خیال اور غور وخوض کیا گیا۔جی 20 شیرپا امیتابھ کانت نے سیاحتی ترقی کے متنوع پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے متعدد پینل سیشنو کی صدارت کی۔ اُنہوں نے کشمیر میں تبدیلی کے تجربات پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایڈونچر، ثقافتی ورثے اور ایکو۔ ٹوراِزم جیسے شعبوں میں تجرباتی سیاحت کی طرف اس کی تبدیلی کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے صنعت کو درپیش چیلنجوں کا اعتراف کیا لیکن مشترکہ کوششوں سے ان پر قابو پانے کی اُمید ظاہر کی۔چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے مہمان نوازی میں کشمیر کی دیرپا طاقت پر زور دیا اور سیاحوں کے تجربات کو بہتر بنانے اور بار بار سیاحت کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے زیادہ رقم وصول کرنے اور دھوکہ دہی جیسے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔کنکلیوکے دوران اہم پرزنٹیشنز میں خطے میں اِقتصادی ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دینے کے لئے ایک جامع نقطہ نظر کی عکاسی کی گئی۔ سیاحت، مہمان نوازی اور میڈیا کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے شراکت داروں بشمول معزز شخصیات نے قیمتی معلومات اور سفارشات کا اِشتراک کیا۔اِس تقریب میں کمشنرسیکرٹری صنعت وحرفت وِکرم جیت سنگھ نے سرمایہ کاری کی کشش، کاروباری مواقع اوردیرپاسیاحت کے طریقوں پر پرزنٹیشن پیش کی ۔کنکلیو میں ایڈونچر ٹورازم، پلگرمیج سرکٹوں اور ایکو۔ ٹوراِزم جیسے سیاحتی شعبوں پر بھی روشنی ڈالی گئی جس میں سابق ڈی جی سیاحت سلیم بیگ کی پرز ٹیشنز اور محکمہ سیاحت جموں و کشمیر کی قیادت میں دیرپایت پر بات کی گئی۔شرکأ میں سنو لیپرڈ ایڈونچر کے پدم شری اجیت بجاج، صدر آئی اے ٹی او راجیو مہرا اور ٹریول بلاگر اور مصنفہ محترمہ انورادھا گوئیل جیسی نمایاں شخصیات شامل تھیں جنہوں نے کشمیر کو ایک متنوع اور سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینے کے عزم پر زور دیا۔اَپنے اِختتامی کلمات میں امیتابھ کانت نے محکمہ سیاحت پر زور دیا کہ وہ سفری مصنفین اور آپریٹروںکے ساتھ مل کر کشمیر کی منفرد پیشکشوں کو ظاہرکریں۔ٹوراِزم ڈیولپمنٹ کنکلیو ۔2024ء میں پینل ڈِس کشنوںسے صنعتی رہنماؤں اور ماہرین کی متنوع صفوںنے روشناس کیا۔ ڈائریکٹر سیاحت جموں وویکانند رائے نے علاقائی سیاحت کی حکمت عملی کے بارے میں معلومات پیش کی جبکہ منیجنگ ڈائریکٹر فارچون پارک ہوٹلز سمیر ایم سی نے مہمان نوازی کی اِختراع پر نقطہ نظر کا اِشتراک کیا۔ ڈائریکٹر احد ریزورٹس آصف برزہ نے دیرپا سیاحت کے طریقوں پر زور دیاجس کی تائید ائیر یا دائریکٹر آپریشنزآئی ایچ سی ایل رام مہیشوری نے بھی کی جنہوں نے مہمان نوازی شعبے میں آپریشنل کارکردگی کو اُجاگر کیا۔ڈائریکٹر سیاحت کشمیر راجایعقوب نے چیلنجوں پر قابو پانے اور کشمیر کی قدرتی خوبصورتی کے درمیان سیاحوں کے تجربات کو بڑھانے کے بارے میں مقامی نقطہ نظر فراہم کیا۔ معروف و مشہور مہم جوئیوں اور سیاحتی حامیوں کی شرکت اہم تھی۔ منیجنگ ڈائریکٹر سنو لیپرڈ ایڈونچر پدم شری اجیت بجاج نے ماحولیاتی ذمہ داری اور کمیونٹی کی شمولیت کو فروغ دینے میں ایڈونچر ٹوراِزم کے کردار کی وکالت کی۔ صدرایسوسی ایشن آف ڈومیسٹک ٹور آپریٹرز آف اِنڈیا پی پی کھنہ نے گھریلو سیاحت کے اَقدامات کو سپوٹ کرنے کے لئے پالیسی فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا جبکہ صدر آئی اے ٹی او راجیو مہرا نے دیرپا سیاحت کے طریقوں کو تشکیل دینے میں صنعتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ ٹی اے اے آئی سے تعلق رکھنے والے انوپ کانوگا نے سیاحتی کونسل کے چیئرمین کے طور پرسٹریٹجک معلومات پیش کی اور سیاحتی ترقی کے لئے جامع نقطہ نظر کی وکالت کی۔کنکلیومیں میڈیا اور گورننس کی بااثر آوازیں بھی شامل تھیں۔ قومی جنرل سیکرٹری ٹی اے ایف آئی عباس معیز نے سیاحتی تصورات کو تشکیل دینے میں میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالی اور پرنسپل سیکرٹری محکمہ سیاحت محترمہ گایتری راٹھور نے منزل کے انتظام میں بہترین طریقوں کا اِشتراک کیا۔ ٹائمز اِنٹرنیٹ لمٹیڈ کی اِنڈیا ٹائمز کی ایڈیٹر اِن چیف محترمہ لوپامدرا گھاٹک نے سفر میں ڈیجیٹل سٹوری سنانے پر تبادلہ خیال کو منظم کیا جس میں کونڈے ناسٹ ٹریولر کے سلیل دیش پانڈے ، معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر محترمہ گریما گوئیل اور ایک معزز ٹریول بلاگر اور مصنفہ محترمہ انورادھا گوئیل نے تعاون کیا جنہوں نے سیاحت کے فروغ میں مستند ثقافتی بیانیے کی وکالت کی۔ ان آوازوں نے مل کر جموں و کشمیر میں دیرپا، جامع اور یادگار سیاحتی تجربات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ٹوراِزم ڈیولپمنٹ کنکلیو۔ 2024 ء نے جموں و کشمیر کے سیاحتی شعبے کے لئے ایک محرک کے طور پر اپنے کردار کا اعادہ کیا جس میں خطے میں سیاحت کے خوشحال مستقبل کو یقینی بنانے کے لئے اِختراع، دیرپایت اور کمیونٹی کی شمولیت پر زور دیا گیا۔