نیشنل کانفرنس نے کیا اپنے بل بوتے پر الیکشن لڑنے کا ارادہ ظاہر،PAGDکہاں؟
سری نگر//نیشنل کانفرنس نے آئندہ اسمبلی انتخابات اپنے بل پرلڑنے کااشارہ دیتے ہوئے انتخابات کی تیاریوں کی طرف ایک اہم قدم کے طور پر بدھ کوکشمیر بھر کے 47 اسمبلی حلقوں کے حلقہ انچارجوں کو نامزد کیا۔ایسا بائورکیاگیاہے کہ جب بھی الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے جموں وکشمیرمیں اسمبلی انتخابات کا اعلان کیا جاتا ہے تو یہی نامزد حلقہ انچارج اگلے اسمبلی انتخابات کیلئے پارٹی کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ نیشنل کانفرنس نے ممکنہ اُمیدواروں کی لسٹ میں سینئر لیڈرشپ کیساتھ ساتھ نوجوان لیڈروںکوکافی اہمیت دی گئی ،جبکہ کئی نئے چہرے بھی اس فہرست میں شامل ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق گرچہ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کہہ چکے ہیں کہ اُن کی پارٹی اگلے اسمبلی انتخابات پی اے جی ڈی میں شامل جماعتوں کیساتھ لڑنے کاارادہ رکھتی ہے ،لیکن بدھ کے روز نیشنل کانفرنس کی جانب سے کشمیر کے سینتالیس اسمبلی حلقوںکیلئے حلقہ انچارج نامزد کئے جانے سے اس تاثر کوتقویت ملی ہے کہ دراصل نیشنل کانفرنس اگلے اسمبلی انتخابات میں اپنے بل پر حصہ لینے جارہی ہے ۔بدھ کے روز47اسمبلی حلقوں کیلئے انچارج یاممکنہ اُمیدوار نامزد کئے گئے لیکن اس فہرست میں عمرعبداللہ کانام شامل نہیں ہے ۔ لیکن انتخابات کا اعلان ہونے کے بعد امیدواروں کی فہرست میں اُن کانام شامل کیاجائے گا،اورعمرعبداللہ اگلے اسمبلی انتخابات ، انتخابی حلقے لال چوک، گاندربل یا حضرت بل سے لڑ سکتے ہیں۔غور طلب ہے کہ ہری نواس گیسٹ ہاؤس سے رہا ہونے کے بعدعمرعبداللہ نے کہاتھاکہ وہ اسمبلی انتخابات نہیں لڑیں گے، لیکن وہ مناسب وقت پر حتمی فیصلہ لیں گے۔واضح رہے کہ اگست2022 میں نیشنل کانفرنس نے پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ کی موجودگی میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یہ پارٹی اگلے اسمبلی انتخابات تمام 90 اسمبلی حلقوں سے اپنے طور پر الیکشن لڑے گی لیکن ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے بعد میں کہا کہ انتخابات کے بارے میں فیصلہ تبھی لیا جائے گا جب وہ اس کااعلان کیا جائے گا۔نیشنل کانفرنس کے حلقہ انچارجوںیا ممکنہ اُمیدواروں کی فہرست سے لگتاہے کہ سابق ممبر اسمبلی اشفاق جبار آئندہ اسمبلی انتخابات میں این سی کے اُمیدوار نہیں ہونگے ،کیونکہ اُن کانام فہرست میں موجود نہیں ہے۔اشفاق جبار کے والد نسبتی اورسابق ممبر اسمبلی محمد سید آخون بھی فہرست سے غائب ہیں۔نیشنل کانفرنس نے محمد سید آخون کے بجائے سلمان ساگر کو حضرت بل کا حلقہ انچارج بنایا ہے۔اسی طرح سے ناصر اسلم وانی اسبار چھانہ پورہ سے اُمیدوار نہیں ہونگے ۔چھانہ پورہ اسمبلی حلقے کاانچارج مشتاق گوروکوبنایاگیا ہے جبکہ گلمرگ، پٹن، اْوڑی اور سوناواری سے بالترتیب فاروق احمد شاہ، ریاض بیدار، ڈاکٹر سجاد شفیع اور ایڈوکیٹ ہلال اکبر لون نیشنل کانفرنس کے ممکنہ امیدوار ہیں اسلئے اُنہیں حلقہ انچارج بنایا گیا ہے۔اگلے اسمبلی انتخابات کیلئے نیشنل کانفرنس کے ممکنہ امیدواروں میں،کفیل الرحمان (کرناہ)، سیف اللہ میر (ترہگام کپوارہ)، ناصر اسلم وانی (کپوارہ)، قیصر جمشید لون (لولاب)، چوہدری محمد رمضان (ہندواڑہ)، شفقت وتالی (لنگیٹ)، ارشاد رسول کار (سوپور) )، جاوید احمد ڈار (رفیع آباد)، ڈاکٹر سجاد اْوڑی (اوڑی)، غلام حسن راہی (بارہمولہ)، فاروق احمد شاہ (ٹنگمرگ)، محمد یعقوب وانی (واگورہ)، ریاض احمد بیدار (پٹن)، ایڈووکیٹ ہلال اکبر لون (سونہ واری) ، ایڈووکیٹ نذیر احمد ملک (بانڈی پورہ)، نذیر احمد خان گریزی(گریز) (ایس ٹی)، میاں الطاف (کنگن) (ایس ٹی)، غلام نبی راتھر (گاندربل)، سلمان علی ساگر (حضرت بل)، علی محمد ساگر (خانیار) ، شمیمہ فردوس (حبہ کدل)، احسان پردیسی (لال چوک)، مشتاق گورو (چھانہ پورہ)، تنویر صادق (زڈی بل)، مبارک گل (عیدگاہ)، عرفان شاہ (بٹہ مالو)، آغا روح اللہ (بڈگام)، ڈاکٹر محمد شفیع (بیرواہ) )، سیف الدین بٹ (خانصاحب)، عبدالرحیم راتھر (چرار شریف)، علی محمد ڈار (چاڈورہ)، جسٹس (ر) حسنین مسعودی (پانپور)، ڈاکٹر غلام نبی بٹ (ترال)، محمد خلیل بند (پلوامہ)، غلام محی الدین میر (راج پورہ پلوامہ)، شوکت گنائی (زین پورہ شوپیان)، شیخ محمد رفیع (شوپیاں)، سکینہ ایتو (دمہال ہانجی پورہ)، عمران نبی ڈار (کولگام)، فیروز شاہ (دیوسر)، توقیر احمد (ڈورئو)، عبدالمجید بٹ(لارمی) (اننت ناگ ویسٹ)، پیر محمد حسین (اننت ناگ)، ڈاکٹر بشیر ویری (بجبہاڑہ)، ریاض خان (مشرقی اننت ناگ)اور الطاف احمد کالو (پہلگام)شامل ہیں۔










