سری نگر//اِنتظامی کونسل کی ایک میٹنگ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میںسلر اننت ناگ میں 500 کنال 11 مرلہ اراضی شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچر سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ( ایس کے یو اے ایس ٹی ) کشمیرکو ریسرچ سٹیشن اور اضافی کرشی وگیان کیندروں کے قیام کے لئے منتقل کرنے کی منظوری دی۔ میٹنگ میں لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا اور لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر مندیپ کمار بھنڈاری نے شرکت کی۔ریسرچ سٹیشن زرعی کاشت کاری میں پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے اور کسانوں کی معاشی خوشحالی کو بڑھانے کے لئے سائنسی ٹیکنالوجی فراہم کرے گا۔ ریسرچ سٹیشن اور اضافی کرشی وگیان کیندر کے قیام سے بڑی تعداد میں توسیعی پروگراموں کے ذریعے زرعی ٹیکنالوجیوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور کسانوں کے بیج ، پودے لگانے کے مواد ، نامیاتی مصنوعات ، بائیو فرٹیلائزر، مویشیوں اور پولٹری جیسے معیاری آدانوں کی پیداوار میں بڑا اثر پڑے گا۔ایک اور اہم پیش رفت میں چاڈوربڈگام میں مِلک پروسسنگ کے بنیادی ڈھانچے کے قیام کے لئے 47کنال 13مرلہ اَراضی محکمہ بھیڑ و پشو پالن محکمہ کے حق میں منتقل کرنے کی بھی منظور ی دی گئی ہے۔مِلک پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کے قیام سے کثیرالجہتی فوائد حاصل ہوں گے جس میں معاشی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، بہتر غذائیت، غذائی تحفظ اور زرعی طریقوں میں اضافہ شامل ہے۔ یہ معیشت اور کمیونٹیوں کی مجموعی فلاح وبہبود کو فروغ دے کر ڈیری اِنڈسٹری کو اَپ گریڈ کرے گا۔جموںوکشمیر میں ڈیری صنعت یوٹی کی معیشت کے لئے بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے ،روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے اور مقامی آبادی کی فلاح و بہبود میں اَپنا حصہ اَدا کرتی ہے۔ ڈیری مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ اور دودھ کی فی کس دستیابی بہت سی دودھ کی صلاحیت والی ریاستوں کے مقابلے میں کم ہونے کی وجہ سے ڈیری شعبہ آنے والے برسوں میںجموں وکشمیر یوٹی میں نمایاں ترقی کے لئے تیار ہے۔










