جموں//ایڈیشنل چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے سکاسٹ جموں میں ’’ موجودہ موسمیاتی تبدیلی کا منظر نامہ اور اس کے پیدا ہونے والے خطرات ‘‘ کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا اِفتتاح کیا۔اِس کانفرنس کا اِنعقاد مہیما ریسرچ فائونڈیشن نے محکمہ سماجی بہبود اور شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی جموں کے اِشتراک سے کیا ہے۔اَتل ڈولو نے اَپنی اِفتتاحی تقریر میں سکاسٹ جموں کو موجودہ دور میں اِنتہائی اہمیت کے حامل اِس میگا ایونٹ کے اِنعقاد پر مبارک باد دی۔ اُنہوں نے کہا کہ زراعت دُنیا کی معیشت کا ایک لازمی حصہ ہے اور ہندوستان جیسے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کی لائف لائن ہے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے زور دیا کہ زراعت واحد شعبہ ہے جو دُنیا کی 80 فیصد غریب آ بادی کے لئے آمدنی اور خوراک کی حفاظت میں اِضافہ کرکے غربت کو کم کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔لیکن آج زراعت کی خوشحالی او رہمارے کسانوں کے مستقبل کو کلائمیٹ چینج جیسے متعدد آنے والے چیلنجوں سے خطرہ لاحق ہے جس سے اِجتماعی طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ 2050 ء تک ہندوستان میں بارانی اور آبپاشی والے چاول کی پیداوار میں بالترتیب 2.5 فیصد او ر7فیصد تک کمی کا اِمکان ہے ۔مزید یہ ہے 2100 میں گندم کی پیداوار میں 6سے 25 فیصد اور مکئی کی پیداوار میں 18 سے 23فیصد تک کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کلائیمٹ چینجز کا بھی مشاہدہ کر رہا ہے اور گذشتہ 28 برسوں میں جموںوکشمیر کے علاقے میں بالترتیب 2.32 سینٹی گریڈ اور 1.45 سینٹی گریڈ کا اوسط درجہ حرارت بڑھ گیا ہے ۔ ہم نے سال 2014ء کشمیر میں تباہ کن سیلابی صورتحال دیکھی او رتقریباً ہر برس بے وقت بارشوں کی وجہ سے جموں میں دھان او رکشمیر میں سیب کی فصل کو بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اَپنے آپ کو اور اَپنے کسانوں کو اِس موسم کے مطابق ڈھالنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ تبدیلیاں کریں تاکہ انہیں معاشی محاذ پر نقصان نہ پہنچے۔اَتل ڈولو نے کہا کہ حکومت نے جموںوکشمیر میں مجموعی زراعت کی ترقی کے لئے ایک جامع پالیسی مرتب کرنے کے لئے سابق ڈی جی آئی سی اے آر ڈاکٹر منگلارائے اور سیکرٹری ڈی اے آر اِی کی صدارت میں ایک اعلیٰ اِختیاری کمیٹی تشکیل دی ہے۔اُنہوں نے جموںوکشمیر میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے ہدف کے ساتھ تجاویز کا مسودہ تیار کرنے میں شاندار کردار اَدا کرنے پر دونوں فارم یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی سراہنا کی ۔ اُنہوں نے کہا کہ سکاسٹ جموں زرعی شعبے میں مختلف تکنیکی اِختراعات کا مرکز ہے اور اس نے وائس چانسلر پروفیسر جے پی شرما کی قیادت میں متعدد سنگ میل حاصل کئے ہیں۔اِس سے قبل ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے شماریات او رکمپیوٹر سائنس کے ڈویژن میں زرعی اِنجینئرنگ کی ٹریننگ اینڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری ، سکول آف بائیو ٹیکنالوجی کی بائیو اِنفارمیٹکس لیبارٹری ، سمارٹ کلاس روم اور شماریاتی ڈیٹااینالیسس سیل کا اِفتتاح کیا۔اَتل ڈولو نے مگس بانی کے یونٹ ، مشروم یونٹ ، ٹیکنالوجی پارک ، مربوط فارمنگ سسٹم ریسرچ سینٹر اور سینٹر فار آرگینک فارمنگ کا بھی دورہ کیا اور سکاسٹ جموں کی ٹیکنالوجی کی نمائش کا معائینہ کیا۔اِس موقعہ پر پروفیسر جے پی شرما نے کووِڈ کی مدت کے دوران اور اَب زرعی شعبے میں ان کی شاندار کوششوں کے لئے اَتل ڈولو کی تعریف کی جسے یوٹی سطح اور قومی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا او رانعام دیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر اِنتظامیہ نے کئی اقدامات شروع کئے ہیں جو یقینی طور پر جموںوکشمیر یوٹی کے زرعی پروفائل کو تبدیل کریں گے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ فارم یونیورسٹیاں اور تمام ترقیاتی محکمہ اَب جموںوکشمیر میں کسانوں اور زراعت کی ترقی کے لئے اِجتماعی طو رپر کام کر رہے ہیں۔پروفیسر شرما نے کسانوں کو بااِختیار بنانے کے لئے ملک میں ایف پی اور کوآپریٹیو سوسائٹیو ں کے فروغ سے زرعی پیداوار کی پروسسنگ ، ویسٹ مینجمنٹ ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ پر زور دیا ۔ اُنہوں نے منتظمین کو مشورہ دیا کہ وہ اس کانفرنس سے سفارشات لے کر آئیں۔وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر پروفیسر نذیر احمد گنائی جو اِس موقعہ پر مہمانِ خصوصی تھے ، نے کہا کہ موجودہ دورہ میں زراعت کو پانی کی کمی ، گرتی ہوئی زمین کی دستیابی ، زمین کی تقسیم ، زراعی پیداوار کا ضیاع ، زراعت کی طرف نوجوانوں کی عدم دِلچسپی او ردیہی لوگوں کی شہری علاقوں کی طرف مائیگریشن کے حوالے سے بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے ۔اِس موقعہ پر جنوبی اَفریقہ سے پروفیسر اے موشنجے نے بھی اَپنے خیالا ت کا اِظہار کیا۔کانفرنس کی تفصیلات دیتے ہوئے بین الاقوامی کانفرنس کے کنوینر ڈاکٹر برجیشور سنگھ نے بتایاکہ دو روزہ میگا ایونٹ کے دوران آٹھ تکنیکی سیشن اور چھ پوسٹر سیشن ہوں گے جن میں زائد اَز 300 مندوبین ، پیشہ ور اَفراد ، محققین ، اکیڈمی شامل ہوں۔اِس موقعہ پر سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈی آر ڈی او ڈاکٹر سمتی شرما، ڈائریکٹر زراعت ، ڈائریکٹر ہارٹی کلچر ، ڈائریکٹر کمانڈائیریا ڈیولپمنٹ ، ڈی اِی اے ، ایف او اے سکاسٹ کشمیر ، سکاسٹ جموں کے قانونی اَفسران ، طلباء اور میڈیا اَفراد موجود تھے۔










