منصوبہ بندی کو آسانی سے عملایا جائے اور اہداف کو وقت پر حاصل کیا جائےچ
سری نگر//ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار اَتل ڈولو نے آج اَپنے شراکت داروں کے ساتھ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام کے تحت کچھ سکیموں کو عملانے کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا۔میٹنگ میں وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر ، سیری کلچر کے ڈائریکٹران ، زراعت اور باغبانی کشمیر / جموں اور متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ اِس کے اغراض و مقاصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے مکمل منصوبہ بندی پر عمل درآمد کریں۔اُنہوں نے اَفسران سے کہا کہ وہ ٹینڈروں کے اجرأ ، پرکیورمنٹ اور اِنسانی وسائل کے اِنتظام کے حوالے سے تمام ابتدائی کام پہلے ہی سے کریں۔اُنہوں نے اَفسران کو مشورہ دیا کہ وہ بروقت پروکیورمنٹ اور وسائل کے اِستعمال کے لئے ٹینڈر دستاویزات کی مکمل وضاحتیں تیار کر کے شفافیت کے تمام معیارات کو برقرار رکھیں۔ اُنہوں نے عوام سے اَپنے پورٹل پر بذریعہ آن لائن موڈ تمام اجزأ کے لئے درخواستیں قبول کرنے پر زور دیا ۔اُنہوں نے کہا کہ اسے شفافیت ، احتساب اور منصفانہ بنانے کے مقصد سے شروع کیا گیا ہے۔اَتل ڈولو نے اِس پلان کی ہرسکیم کے تحت دستیاب فنڈزکی پوزیشن کا بھی نوٹس لیا۔ اُنہوں نے اُنہیں یقین دِلایا کہ اُٹھائے گئے تمام مطالبات کو جلد حل کرنے کے لئے غور کیا جائے گا۔ اُنہوں نے اُنہیں آگاہ کیا کہ مستقبل میں فنڈز کی پرکیورمنٹ اور استعمال کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا ۔ اُنہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ وہ ٹائم سیریز کے خلاف ہر ایک جزو کے تحت ڈیلیور ایبلز جمع کرایں تاکہ یہ مقررہ وقت کے اَندر مکمل ہوں۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو متعلقہ اَفسران کی جانب سے یقین دِلایا گیا کہ کہ پروجیکٹوں پر آسانی سے عمل در آمد کیا جائے گا اور اَپنے اہداف بروقت حاصل کئے جائیں گے ۔ اُنہیں مزید بتایا گیا کہ تمام ابتدائی تیاریوں اور شراکت داروں کے ساتھ مشاورت تیزی سے جاری ہے اور اَپنے مقررہ وقت کے اَندر مکمل طور پر عمل میں لائی جائے گی۔ذیلی پروجیکٹوں جن پر آج مکمل بحث و تمحیص ہوئی ان میں بیج او ربیج کی ضرب ب کاری کے سلسلے کی ترقی ، مخصوص فصلوں کا فروغ ، کھلی اور محفوظ کاشت کے تحت سبزیوں اور غیر ملکی سبزیوں کا فروغ ، یوٹی میں زرعی مارکیٹنگ کو مضبوط بنانا، دوائوں اور خوشبودار پودوں ، مگس پالن ، ریشم کی زراعت کا فروغ ، جوار او رغذائی اَناج کا فروغ ، فارم میکانائزیشن او رآٹومیشن اور سال بھر مشروم کی کاشت کو فروغ دینا شامل ہیں۔دورانِ میٹنگ جن کاموں پر غور و خوض ہوا ان میں بیجوں کی صد فیصد چھوٹ ، بریڈر اور فائونڈیشن سیڈز کی ترقی کے لئے حکمت عملی کے دستاویز کی تشکیل ، 12,000 پرائمری سیڈ پروڈیوسروں کے ساتھ 500 سی ایس پیز اور ایس پی اوز کا قیام، فصلوں کے نیچے رقبہ کو فروغ دیناجیسے زعفران ، کالا زیرہ ، مرچ ، مشکہ بدجی ، سرخ چاول وغیرہ اور اس کی توسیع شامل ہے۔اِسی طرح میٹنگ میں نئی منڈیوں کی تخلیق ، سی اے سٹوروں کے قیام، ایگری کلچر برانڈنگ سینٹروں ، مارکیٹ اِنٹلی جنس سیل ، میڈیسنل اینڈ آرومیٹک پلانٹوں کے تحت رقبہ میں توسیع ، ہر بل ٹیکنالوجی اور مگس پالن پر سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اِس میٹنگ کے دوران شہتوت کے 10لاکھ پودوں کی ترقی ، چوکی پالنے کے مراکز کا قیام، محکمانہ کھیتوں میں 2,000کوئنٹل زیادہ پیداواری اقسام ، کے تصدیق شدہ بیج کی پیداوار ، جوار کی زیر زمین رقبہ کو 6,000 ہیکٹر تک بڑھانا ، سرکاری شعبے کے فارموں کی میکانائزیشن ، آئی آے او ردرستگی کا یام، فارمنگ سینٹروں ، مشروم کی نئی اقسام کی خریداری اور 26پاسچرائزد کمپوسٹ بنانے والے یونٹوں اور 72کنٹرولڈ کنڈیشنڈ کراپنگ یونٹوں کا قیام بھی زیر بحث آیا۔منصوبے میں کل 29منصوبے شامل ہیں ۔معیشت ، مساوات اور ماحولیات کے اَصولوں پر مبنی یہ منصوبے جموںوکشمیر کی زرعی معیشت کو تبدیل کریں گے اور اسے ترقی کی نئی راہ پر گامزن کریں گے ، شعبوں کی پیداوار کو تقریباً دوگنا کریں گے،برآمدات کو فروغ دیں گے اور شعبوں کو دیرپا اور تجارتی طور پر قابل عمل بنائیں گے ۔ یہ جموںوکشمیر میں کسانوں کی خوشحالی اور دیہی روزی روٹی کے تحفظ کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کرے گا۔ زرعی پیداوار جو 37,600 کروڑ روپے ہے اس کے نتیجے میں شعبہ جاتی شرح نمو میں 11فیصد تک اِضافہ ہوگا۔مزید یہ کہ اقدامات کے نتیجے میں 2.8 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور تقریباً 19,000 کاروباری اِدارے قائم ہوں گے۔










