پولیس نے عسکری تنظیم سے وابستہ تین افراد کو کیا گرفتار، ٹینکر اور ہتھیار ضبط
سرینگر//اوئیل ٹینکر میں مبینہ طور پر چھپائے گئے ہتھیاروں کی سمگلنگ کو ناکام بناتے ہوئے پولیس نے تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے جنہوںنے جموںنمبر کے ایک ائوئیل ٹینکر میں مبینہ طور پر ہتھیار چھپائے تھے جو ڈرون کے ذریعے جموں میں بھیج دئے گئے تھے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں و کشمیر پولیس نے ملیٹنسی کے ماڈیول کا پردہ فاش کیا اور کشمیر کے جیش محمد کے تین ملیٹنٹ سہولت کاروں کو سرحد پار سے ڈرون کے ذریعے بھیجے گئے ہتھیاروں کے ساتھ گرفتار کیا۔ تینوں مددگار جھاڑیوں میں چھپائے گئے ہتھیاروں کو جموں میں قومی شاہراہ پر سدہ کے قریب ایک پارک میں ایک آئل ٹینکر میں لے جا رہے تھے۔ذرائع کے مطابق نروال میں ہتھیاروں کے ساتھ گرفتار جیش محمد کے ملیٹنٹوں سے پوچھ گچھ میں اور بھی کئی انکشافات ہوئے ہیں۔ وہ آئل ٹینکر جس میں ملیٹنٹوں نے اسلحہ چھپا رکھا تھا۔ اسے ابھی کچھ دن پہلے جموں کے ایک ٹرانسپورٹر سے خریدا گیا تھا۔ اس میں اب بھی 12 لاکھ روپے کا ڈیزل بھرا ہوا ہے۔یہ ٹینکر پامپور کے رہائشی فاروق نے جموں کے ایک ٹرانسپورٹر سے 13 لاکھ روپے میں خریدا تھا۔ اب اس کے عوض صرف 7 لاکھ دیے گئے اور ٹینکر بھی ان کے نام پر منتقل نہیں کیا گیا۔ جموں کا نمبر والا آئل ٹینکر جان بوجھ کر خریدا گیا تھا، کیونکہ راستے میں جموں سے کشمیر پٹرول ڈیزل لے جانے والوں کی بہت کم چیکنگ ہوتی ہے۔یہ ٹینکرز آئل ٹینکر ڈرائیور کی شناخت اور پیٹرول ڈیزل لے جانے کی اجازت کے علاوہ کئی رسمی کارروائیوں کے بعد روانہ ہوتے ہیں۔ ملیٹنٹوں نے ٹینکر میں اسلحہ رکھا تاکہ کوئی ان سے پوچھ نہ سکے۔ اسی لیے جموں نمبر کا ٹینکر بھی خریدا، تاکہ پوچھ گچھ کے لیے اسے کم روکا جائے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ عام طور پر اسلحہ ٹرکوں میں سمگل کیا جاتا ہے۔ اسلحہ چھپانے کے لیے ٹرکوں کے درمیان خفیہ جگہ بنائی جاتی تھی لیکن اب 16 سال بعد آئل ٹینکر کو ملیٹنٹی کی سازش کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔اس سے قبل 2006 میں جموں کے آئل ڈپو کے قریب ایک آئل ٹینکر میں دھماکہ ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے ایک شخص ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے۔جمعہ کو پولیس ملیٹنٹ محمد یاسین کو سیدہ انوائرمنٹ پارک کے قریب جنگل میں لے گئی۔ ان لوگوں نے یہاں سے اسلحہ برآمد کیا تھا۔ اس کے علاوہ پولیس نے اس ٹرانسپورٹر سے بھی پوچھ گچھ کی ہے جس سے فاروق نے ٹینکر خریدا تھا۔تینوں ملزمان سدہ میں جھاڑیوں میں چھپایا گیا اسلحہ آئل ٹینکر میں لے جا رہے تھے۔جموں و کشمیر پولیس نے ملیٹنٹ ماڈیول کا پردہ فاش کرتے ہوئے کشمیر کے جیش محمد کے تین مملیٹنٹوں کے سہولت کاروں کو سرحد پار سے ڈرون کے ذریعے بھیجے گئے ہتھیاروں کے ایک ذخیرے کے ساتھ گرفتار کیا ہے۔ تینوں مددگار جھاڑیوں میں چھپائے گئے ہتھیاروں کو جموں میں قومی شاہراہ پر سدہ کے قریب ایک پارک میں ایک آئل ٹینکر میں لے جا رہے تھے۔پاکستان میں بیٹھے ملیٹنٹوں کے ماسٹر مائنڈ شاہواز نے یہ اسلحہ ڈرون کے ذریعے اس طرف بھیجا تھا۔ اس کے متذکرہ مقام پر تینوں نے اسلحہ برآمد کیا اور اسے ٹینکر کے کیبن میں چھپا کر لے جا رہے تھے۔ ان ہتھیاروں میں تین اے کے 56 رائفلیں، ایک پستول، اے کے 56 کے نو میگزین، 191 کارتوس اور 6 دستی بم شامل ہیں۔پولیس کے مطابق 8 نومبر کی رات تریکوٹہ نگر پولس اسٹیشن کی ٹیم نے ہائی وے کو روک دیا تھا۔ اس دوران ناروال کے قریب کھڑے آئل ٹینکر (JK02BF 2965) کی تلاشی لی گئی اور آگے لے جایا گیا۔ ٹینکر یہاں سے نکلا اور ڈرائیور نے انوائرمنٹ پارک کے قریب جا کر اسے دوبارہ روک لیا۔وہاں پولیس گشت نے اسے آگے بڑھنے کو کہا۔ ڈرائیور نے تھوڑی دور جا کر یو ٹرن لیا اور ٹینکر واپس ناروال لے گیا۔ جب پولیس اہلکاروں نے دیکھا کہ ٹینکر وہاں سے واپس آ گیا ہے تو انہوں نے ڈرائیور سے پوچھ گچھ کی۔ اس دوران اس کے دو ساتھی پولیس اہلکاروں سے جھگڑنے لگے اور لڑائی شروع کر دی۔پولس ٹیم نے تینوں کو اپنی تحویل میں لیا اور تریکوٹہ نگر پولس اسٹیشن لے گئے۔ پوچھ گچھ پر ٹینکر ڈرائیور نے اپنا نام محمد یاسین ساکنہ پامپور بتایا۔ اس کے ساتھیوں کی شناخت فرحان فاروق اور فاروق احمد کے نام سے ہوئی ہے۔جب ان تینوں کی مشکوک سرگرمیوں اور بات چیت کے بارے میں پمپور پولس اسٹیشن سے معلومات لی گئی تو پتہ چلا کہ ٹینکر ڈرائیور یاسین کے خلاف اونتی پورہ پولیس اسٹیشن میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مقدمہ درج ہے۔یہ اطلاع ملنے پر پولیس نے تینوں سے سختی سے پوچھ گچھ کی تو ملزمان نے بتایا کہ وہ ملیٹنٹ تنظیم جیش محمد کے لیے کام کرتے ہیں اور جموں سے ہتھیار جمع کرنے آئے تھے۔ پولیس نے آئل ٹینکر کی دوبارہ تلاشی لی تو اس میں سے اسلحہ برآمد ہوا۔واٹس ایپ پر لوکیشن بھیجی گئی۔محمد یاسین نے بتایا کہ اسے پاکستان میں بیٹھے جیش کے ملیٹنٹ ماسٹر مائنڈ شاہواز نے واٹس ایپ پر لوکیشن بھیجی تھی۔ یہ مقام سدہ کے انوائرمنٹ پارک کے قریب جھاڑیوں میں تھا۔ اس کی مکمل ویڈیو بنا کر بھیج دی گئی۔ اس کی مدد سے وہ ہتھیاروں تک پہنچے اور انہیں اٹھا کر ٹینکر میں چھپا دیا۔










