اننت ناگ میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران فوج اور جنگجوئوں کے مابین جھڑپ

ملیٹنٹوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک ہائبرڈ جنگجو ہلاک ہوا۔ پولیس کا دعویٰ

سرینگر//اننت ناگ میں پولیس نے کہا ہے کہ ایک چھاپے مار کارروائی کے دوران ایک ہائبرڈ جنگجو ملیٹنٹوں کی گولی لگنے سے جاںبحق ہوا ہے ۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ہائبرڈ جنگجو نے پوچھ تاچھ کے دوران خفیہ ٹھکانے کاانکشاف کیا تھا جس کا پتہ لگانے کیلئے پولیس، فوج اور فورسز نے مشترکہ آپریشن شروع کیا اور جونہی اس مقام پر ہائبرڈ جنگجو کو ساتھ لیکر پہنچے تو وہاںچھپے ملیٹنٹوں نے گولی باری شروع کی جس کی وجہ سے زیر حراست ہائبرڈ جنگجو گولی کی زد میں آکر جاںبحق ہوا ہے ۔ پولیس کے مطابق یہ مہلوک جنگجو غیر مقامی مزدوروں کی ہلاکت میں مبینہ طور پر ملوث تھا ۔اس ضمن میں پولیس نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بھی دعویٰ کیا کہ ملیٹنٹوں کی ابتدائی فائرنگ سے لشکر طیبہ سے منسلک ایک ہائیبرڈ ملیٹنٹ سجاد تانترے گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔ اگرچہ سجاد کو فوری طور پر بجبہاڑہ کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن ڈاکٹروں نے سجاد کو مردہ قرار دیا۔ سی این آئی کے مطابق جنوبی کشمیر میں پولیس نے ایک انکاونٹر کے دوران ہائبریڈملیٹینٹ کے مارے جانے کا دعویٰ کیا اور مہلوک ملی ٹنٹ کو غیر مقامی افراد پر حملوں میں بھی ملوث قرار دیا گیا ہے۔اس ضمن میں پولیس ذرائع نے بتایا کہ پولیس ، فورسز اور فوج کی 3 راشٹریہ رایفلز نے ملیٹینٹوں کی موجودگی کی ایک مصدقہ اطلاع کی بناء پر اننت ناگ کے ڈڈو مرہامہ علاقے کا محاصرہ کیا۔ اس دوران جوں ہی پولیس اور فوج کی مشترکہ پارٹی اس مقام پر پہنچ گئی جہاں ملیٹنٹ موجود تھے تو ملیٹنٹوں نے سرچ پارٹی پر فائرنگ کی۔پولیس نے ایک ٹویٹ کے ذریعے دعویٰ کیا کہ ملیٹنٹوں کی ابتدائی فائرنگ سے لشکر طیبہ سے منسلک ایک ہائیبرڈ ملیٹنٹ سجاد تانترے گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔ اگرچہ سجاد کو فوری طور پر بجبہاڑہ کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن ڈاکٹروں نے سجاد کو مردہ قرار دیا۔ پولیس کے مطابق سجاد کو پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور اسی کی نشاندہی پر ڈڈو مرہامہ میں چھاپہ مار کارروائی انجام دی گئی اور وہ انکاونٹر کے وقت سکیورٹی فورسز کی سرچ پارٹی کے ساتھ تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ سجاد نے تفتیش کے دوران اس بات کا انکشاف کیا کہ 12 نومبر کو رخ مومن اننت ناگ میں غیر مقامی افراد پر حملے میں وہ ملوث تھا اور اس حملے میں اتر پردیش کے دو مزدور شدید طور پر زخمی ہو گئے تھے جن میں سے بعد میں چھوٹو پرساد نامی مزدور کی موت واقع ہوگئی۔پولیس نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ سجاد تانترے کی نشاندہی پر بعد میں حملے میں استعمال کئے گئے پستول اور گاڑی کو بھی ضبط کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا کہ اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہے پولیس کے مطابق سجاد تانترے کا تعلق کولگام ضلع سے ہے اور وہ اسے قبل پی ایس اے تحت گرفتار ہوا تھا جس کے بعد اسے رہا کر دیا گیا تھا۔یاد رہے کہ رواں ماہ کی 12تاریخ کورخہ مومن نامی علاقے میں نامعلوم بندوق برداروں کے حملے میں دو غیر مقامی مزدور زخمی ہوئے تھے اور اس واردات کے 24گھنٹوں کے اندر ہی پولیس نے اس واردات میں مبینہ طور ملوث ایک نوجوان کو گرفتار کرلیا تھا جس کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ یہ جنگجو تنظیم لشکر طیبہ کاہائبرڈ جنگجو ہے ۔ پولیس نے گرفتار شدہ شخص سے ایک پستول اور ایک گاڑی بھی ضبط کرلی تھی ۔