air pollution

انسانی صحت کو فضائی آلودگی سے لاتلافی نقصان پہنچتا ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن

فضائی آلوودگی سے دل کے امراض اور حرکت قلب بندنے ہونے کے امناکات بڑھتے ہیں

سرینگر //فضائی آلودگی کی وجہ سے دل کے امراض میں اضافہ ہوتا ہے اور دل کا دورہ پڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ ’’ورلڈ ہیرٹ ڈے‘‘ کی مناسبت سے ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی سے جہاں کئی طرح کے امراض پنپتے ہیں وہیں فضائی آلودگی دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کو بڑھاتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس بارہ سالوں میں وادی کشمیرمیں پرائیوٹ ٹرانسپورٹ میں 70فیصدی اضافہ ہوا ، اینٹھ بٹھ بڑھ گئے اور دیگر کارخانوں کاا ضافہ ہوا جس سے نکلنے والا دھوا اور مواد ہوا کے معیار کو تباہ کررہا ہے جس کے باعث انسان کئی طرح کی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ سٹار نیو ز نیٹ ورک کے مطابق عالمی یوم قلب کے موقع پر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا کہ فضائی آلودگی سے دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ آلودہ ہوا آپ کے دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔ڈاکٹر حسن نے کہا کہ جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (جاما) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ فضائی آلودگی کے باریک ذرات سے دوچار ہوتے ہیں ان میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔باریک ذرات فضائی آلودگی، جسے PM2.5 بھی کہا جاتا ہے وہ باریک ذرات ہیں جو 2.5 مائیکرو میٹر یا اس سے چھوٹے قطر کے ہوتے ہیں جو گاڑیوں، فیکٹریوں اور آگ سے خارج ہوتے ہیں۔انہوںنے مزید بتایا کہ ان دیکھتی ان خطرناک اجزا سے انسانی جسم کو لاتلافی نقصان پہنچتا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ تحقیق سے پتا چلا کہ PM2.5 کی نمائش 12.0 اور 13.9 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر کے درمیان ارتکاز میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ 10 فیصد اور دل کی بیماری سے مرنے کے 16 فیصد خطرے سے منسلک تھی۔اضافی تجزیوں سے پتا چلا کہ دل کے دورے کا بڑھتا ہوا خطرہ 12 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر کے موجودہ ہوا کے معیار سے کم ہونے پر بھی برقرار ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر معیار کو مزید کم کیا جائے تو ہم دل کے دورے کم دیکھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، تعمیرات، اینٹوں کے بھٹوں، سیمنٹ اور دیگر عوامل کی وجہ سے پچھلے کچھ سالوں سے کشمیر میں ہوا کا معیار مسلسل خراب ہو رہا ہے جو آلودگی کا اخراج کرتے ہیں اور ہوا کو نمایاں طور پر آلودہ کرتے ہیں۔اور اس سے وادی میں ہارٹ اٹیک کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف عمر رسیدہ افراد ہی نہیں، بلکہ نوجوان اور صحت مند افراد کو بڑے پیمانے پر دل کا دورہ پڑنے والے ہسپتالوں میں لایا جاتا ہے۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ “جبکہ تمباکو نوشی، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور ہائی کولیسٹرول دل کے دورے کے لیے اہم خطرے والے عوامل بنے ہوئے ہیں، کشمیر میں بہت سے لوگ ان میں سے کوئی بھی خطرے والے عوامل کے ساتھ بڑے پیمانے پر دل کے دورے کے ساتھ ہسپتالوں میں آتے ہیں اور فضائی آلودگی ایک عنصر ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیونٹی میں ہارٹ اٹیک کے کیسز کی تعداد کو کم کرنے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے فضائی آلودگی پر قابو پانے کی فوری ضرورت ہے۔