امریکہ۔ایران جنگ میں شدت ، تیل 100ڈالر سے تجاوز

امریکہ۔ایران جنگ میں شدت ، تیل 100ڈالر سے تجاوز

تہران/واشنگٹن / ایجنسیز / /امریکہ اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی مزید سنگین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی فوج نے مسلسل تیرہویں رات بھی ایران کے مختلف فوجی اور تجارتی اہداف پر حملے کیے، جبکہ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے ریڈ سی میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان پیش رفتوں کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جہاں فوجی سامان اور تجارتی کارگو کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو افراد زخمی ہوئے۔ اسی دوران قشم جزیرے، اندیمشک، امیدیہ اور فیروزآباد سمیت دیگر علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔امریکی میزائل حملے میں اہواز کے مضافات میں چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ خطے میں تجارتی جہازوں اور شہری بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔دوسری جانب حوثی باغیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو وہ ایک اور اہم عالمی تجارتی راستے کو بھی بند کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سے قبل ایران آبنائے ہرمز میں سخت کنٹرول نافذ کر چکا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں متبادل بحری راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جہازوں پر حملے دوبارہ ہوئے تو ایران کو بھی اس کی قیمت چکانی پڑے گی کیونکہ حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروپ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ “بڑی فوجی سزا’’ دینے سے گریز نہیں کرے گا۔کشیدگی کے بڑھتے ہی عالمی توانائی مارکیٹ بھی متاثر ہوئی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 6 فیصد اضافے کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی، جو حالیہ مہینوں کی بلند ترین سطح ہے۔ادھر عراق کے وزیر اعظم علی الزیدی تہران پہنچے جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقات میں مذاکرات اور امن کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عراق کی سرزمین ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔