امرگڑھ سوپور پائورگرڈاسٹیشن کی تقویت سازی کاکام منظوری کے باوجود برسوں سے قصہ پارینہ

امرگڑھ سوپور پائورگرڈاسٹیشن کی تقویت سازی کاکام منظوری کے باوجود برسوں سے قصہ پارینہ

بیشتر علاقوں میں 33کے وی لائن بچھانے کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں،شمالی کشمیرمیں بجلی بحران کی بنیادی وجہ

سری نگر//سال2018میںریاستی محکمہ بجلی نے جنوری یا فروری کے بعد بجلی کی سپلائی پوزیشن میں بہتری آنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔تب کی ریاستی سرکار کا کہنا تھا کہ 31دسمبر کو آلسٹینگ گرڈ سٹیشن کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اب دلنہ گرڈ سٹیشن کا کام جنوری 2019میں مکمل کیا جائے گا جس کے بعد وادی میں بجلی بحران سے نجات ملے گی اور لوگوں کو معقول بجلی سپلائی فراہم کی جائے گی۔جے کے این ایس کے مطابق محکمہ بجلی کے حکام کا کہنا ہے کہ سرما کے مصروف ترین اوقات کے دوران وادی کو فی الوقت2200 میگاواٹ کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اس وقت وادی کو صرف1300 میگاواٹ بجلی مل رہی ہے۔حکام کا استدال یہ ہے کہ وادی کیلئے اضافی بجلی حاصل نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ پاور گرڈ سٹیشنوں کی صلاحیت میں کمی ہے۔محکمہ بجلی کے سینئرانجینئر اسبات کومانتے ہیںکہ پاور گرڈ سٹیشنوں کی صلاحیت مطلوبہ نتائج یاضرورتوں کی حامل ہے۔سال2018میں محکمہ بجلی کے ذرائع کا کہناتھا کہ اگر آلسٹینگ گرڈ سٹیشن سے 320 میگاواٹ بجلی بحال بھی ہو جاتی ہے تو اس کا فائدہ سرینگر اور اس کے ملحقہ علاقوں کو ہو سکتا ہے جبکہ شمالی کشمیر میں تب تک بجلی بحران برابر جاری رہے گا جب تک نہ دلنہ گرڈ سٹیشن کی تعمیرکاکام مکمل ہوگا اورامرگڑھ سوپورکے گرڈاسٹیشن کی صلاحیت بہتر بنائی جائیگی۔کشمیر وادی میںبجلی کی کھپت اور ضرورت کے بیچ ابھی بھی900میگاواٹ کی تفاوت ہے جبکہ بجلی کے ترسیلی وتقسیم کاری نظام میں موجود خامیوںکی وجہ سے بجلی کااچھاخاصا حصہ صارفین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہوجاتاہے۔محکمہ بجلی کے ذرائع نے بتایاکہ سال2018میں سانبہ امرگڑھ ٹرانسمیشن لائن کے مکمل ہونے کے بعد اْس میں صرف 150میگاواٹ کا اضافہ ہوا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امرگڑھ سوپورکے گرڈاسٹیشن کی صلاحیت سازی کاکام سال2016میں ہاتھ میں لیاگیا۔ٹینڈر جاری ہونے کے باوجود آج تک امرگڑھ سوپور پائور گرڈاسٹیشن کی افزودگی یعنی Augmentation of Amergarh Sopore power grid station عمل میں نہیں لائی گئی۔ امرگڑھ سوپورمیں قائم 132/33کے وی پائورگرڈ اسٹیشن کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کیلئے یہاں 50 ایم وی اے ٹرانسفارمر کی تنصیب عمل میں لاناتھی اورا س کومنظوری بھی دی گئی تھی،سال2019میں ٹیندربھی جاری کئے گئے لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پرآج تک یہاں یہ ٹرانسفارمر نصب نہیں کیاگیا۔6اگست2019ٹینڈرداخل کرنے کی آخری تاریخ مقررکی گئی تھی جبکہ امرگڑھ سوپورگرڈاسٹیشن کی تقویت سازی پر لاگت کاکل تخمینہ2کروڑ80لاکھ روپے لگایاگیاتھا۔ماہرین کہتے ہیںکہ امرگڑھ سوپور پائور گرڈاسٹیشن کی افزودگی عمل میں لائے بغیر شمالی کشمیر بشمول سوپور اوراسکے نواحی علاقوںمیں جاری بجلی بحران میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔اس دوران معلوم ہواکہ سوپور سمیت شمالی کشمیر کے بیشتر علاقوںمیں33کے وی لائن بچھانے کی جانب بھی کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ صدیق کالونی سوپورتک 33کے وی لائن بچھانامقصود تھی لیکن آج تک یہ ترسیلی لائن بھی نہیں بچھائی گئی ہے۔33کے وی لائن کونہ بچھانے کی وجہ سے نہ صرف متعددعلاقوںمیں بجلی کی آواجاہی ایک معمول بن چکی ہے بلکہ سب ڈسٹرکٹ اسپتال سوپور کوبھی بجلی کی عدم دستیابی کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔