کئی نامور شاعروں، ادیبوں اور قلم کاروں کی شرکت۔
سری نگر//مراز ادبی سنگم کے زیر اہتمام بجبہاڑہ کے ماڈل ہایر سیکنڈری اسکول میں سالانہ کانفرنس کا انعقاد تقریب میں ڈاکٹر محمد شفیع ایاز نے مہمانوں کا استقبال کیا اور اظہار مبشر نے سالانہ رپورٹ پیش کیا۔ تقریب میں پہلے نشست کی صدارت مراز ادبی سنگم کے صدر علی شیدا نے کی۔ تنطیم کے سرپرست غلام نبی آتش نے کلیدی خطبہ میں مراز کے ادبی خاکہ پر روشنی ڈالی۔ پرنسپل ہایر سیکنڈری نصرینہ اختر نے اپنے زرین خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقاریب سے طالب علموں میں علم و ادب کا شوق پیدا ہوگا اور لٹریچر کے طلبا کیلے سود مند ثابت ہوگا۔ اس نششت میں مراز ادبی سنگم کی طرف سے اعزازات بھی دیے گیے۔ ڈاکٹر شتیش ومل کو شان مراز 2022 اور پروفیسر فاروق فیاض کو شرف مراز 2022سے نوازا گیا۔ یوسف جہانگیر کی کتاب کو شاہ پارہ مراز 2022، ڈاکٹر شوکت شفا کی کتاب کو شاہ پارہ مراز 2021، ڈاکٹر رتن تلاشی کی کتاب کو شاہ پارہ مراز 20220، قمر حمید اللہ کی کتاب کو شاہ پارہ مراز 2019اور راجہ یوسف کی کتاب کو شاہ پارہ مراز 2018سے نوازا گیا۔اس نشست میں مراز ادبی سنگم کے سالانہ ادبی رسالہ “وتھہ آگر” کی رسم رونمائی کئی ادبی تنظیموں کے سربراہوں کی موجودگی میں انجام دی گئی جن میں غلام رسول مشکور، شکیل آزاد،سید شوکت غیور، گلشن بدرنی اور ساگر نذیر بھی شامل تھے۔ حمیدہ شاہ اختر کے شعری مجموعہ “چھوکھ امارن ہند” کی رسم رونمائی بھی اسی نشست میں ڈاکٹر ستیش ومل کے ہاتھوں انجام دی گئی۔ تقریب میں حمیدہ شاہ اختر کو ایک ت?صیفی سند سے بھی نوازا گیا۔مشہور و معروف شاعر ایوب صابر نے بھی حمیدہ شاہ اختر کو منظوم توصیفی سند پیش کی۔ علی شیدا نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ مراز کی زمیں ادبی لحاظ سے ہمیشہ ذرخیز تھی اور دور حاضر میں بھی اس زمین سے ایسے پھول کھل کر نکھر کے آرہے ہیں جن کی خشبو پورے ادبی منظر نامے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری زبان اور تہذیب کو فروغ دینے میں یہاں کے نوجوان قلمکار اپنا فریضہ بخوبی انجام دیتے ہیں۔ اس نشست میں نظامت کے فرائض یوسف جہانگیر نے انجام دئے۔تقریب کی دوسری نشست میں مشتاق ضمیر نیمراز کے ادبی منظر نامیپر ایک مفصل مضمون پیش کیا جس پر سیر حاصل بحث بھی ہوئی۔ اس نشست کی صدارت ڈاکٹر رفیق مسعودی نے کی جبکہ ڈپٹی ڈایریکٹر کالوٹی ایشورینس ہائر ایجو کیشن کشمیر یونیورسٹی جناب شوکت شفیع صاحب بحثیت مہمان خصوصی اور گلشن بدرنی بحثیت مہمان ذی وقار شامل تھے۔ اس نشست کی نظامت اشرف راوی نے کی۔تقریب کی تیسری نشست میں عصری ادب میں نئے امکانات پر ایک مباحثہ ہوا۔ مباحثہ میں ڈاکٹر ستیش ومل اور عبدالخالق شمس نے شرکت کی۔۔تقریب کی صدارت پروفیسر فاروق فیاض نے کی اور نثار ندیم نے نشست میں نظامت کی ذمہ داری نبھائی۔تقریب کی اختتامی نشست میں مراز ادبی سنگم کے سابقہ صدر اعجاز غلام محمد لالو کی صدارت میں ایک محفل مشاعرہ منعقد ہوا۔ مشاعرہ میں ڈاکٹر شیدا حسین شیدا نے نظامت کا فریضہ انجام دیا۔ مشاعرہ میں کشمیر کے ممتاز شعرا نے اپنا کلام پیش کیا جن میں ساغر سرفراز، رشید صدیقی، ڈاکٹر شوکت شفا، سرور بلبل، ساگر نذیر، پرویز گلشن، اعظم فاروق، شائستہ شفق، نادر احسن، ناصر منور، غلام حسن لون پوری اور ریاز خاکی نے شرکت کی۔










