علاقے میں ڈگری کالج کے قیام کیلئے لیفٹنٹ گورنر او ر وزیر اعلیٰ سے اقدامات اٹھانے کی مانگ کی
سرینگر/ سی این آئی // کھاگ بڈگا م کے لوگوں اور طلبہ نے علاقے میں ایک ڈگری کالج قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے ضلعی ہیڈ کواٹر کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ سی این آئی کو نمائندے نے اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کھاگ اور اس کے ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی آبادی نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں ایک ڈگری کالج کا قیام عمل میںلایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مقامی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے دور درواز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جس سے ان کا کافی وقت ضائع ہو جاتا ہے ۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ ڈگری کالج نہ ہونے کے باعث کمی طلباء کو بیروہ اور ماگام کے کالجوں میں جانے کیلئے کافی فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے ایک مقامی شہری نے کہا کہ ان کے علاقے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ایک رہائشی نے کہا’’ہم نے حکومت سے بار بار اپیل کی ہے کہ وہ ہمیں ڈگری کالج فراہم کرے۔ بدقسمتی سے، ہمارے علاقے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے‘‘۔کھاگ کے ایک طالب علم جاوید احمد نے کہا کہ طلباء کو 12ویں جماعت کے امتحانات مکمل کرنے کے بعد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’طلباء کے پاس ماگام اور بیروہ میں واقع کالجوں میں داخلہ لینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ روزانہ سفر کرنا نہ صرف مہنگا ہے بلکہ اس میں بہت زیادہ وقت بھی لگتا ہے، جس سے کلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ کھاگ کو بڈگام کی سب سے دور دراز تحصیلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس میں ضلع کی حدود کے قریب بہت سے گاؤں واقع ہیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں ڈگری کالج کے قیام سے اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں بہت بہتری آئے گی اور طلبائکو ریلیف ملے گا۔ ایک اور طالبہ عظمیٰ جان نے کہا’’اگر حکومت کھاگ میں ایک ڈگری کالج قائم کرتی ہے، تو یہ طالب علموں، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے ایک قابل قدر فروغ ہو گا، جن کے لیے ہر روز طویل فاصلہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے‘‘۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ طلباء کو درپیش مشکلات پر سنجیدگی سے غور کریں۔ مقامی لوگوں نے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو ترجیح دیں اور کھاگ تحصیل میں ڈگری کالج کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔










