کانکلیو میں کشمیر کی زمین، پانی اور ہوا کوصاف وشفاف رکھنے کا عہد
سرینگر/جمیل انصاری/ایس ایس ایم کالج آف انجینئرنگ، پری ہاس پورہ پٹن بارہمولہ میں ماحولیاتی کانکلیو کا انعقاد کیاگیا۔اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو اس بات کے لیے اُبھارنا تھا کہ وہ ایک مخصوص کمیٹی تشکیل دیں جو برباد شدہ ماحولیاتی مقامات جیسے کہ ویٹ لینڈز، چشمے اور دیگر نازک ماحولیاتی نظام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے سرگرم ہو۔ کانکلیو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ پہل صرف سیمینار تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔تقریب کے دوران شرکاء کو یہ احساس دلایا گیا کہ انسانی سرگرمیاں ماحولیاتی بگاڑ کا باعث بنتی ہیں اور انہیں قدرتی وسائل کی بحالی کی ذمہ داری لینے کی ترغیب دی گئی۔ بڑی تعداد میں طلباء اور فیکلٹی ممبران نے اس مباحثے میں فعال طور پر حصہ لیا۔ جموں وکشمیر اسمبلی کے انوارنمنٹ کمیٹی کے چیئرمین محمد یوسف تارگامی مہمان خصوصی تھے۔ ہربز یعنی جڑی بوٹی کی مشہور خاتون ماہر ردارشید،نگیں لیک کنزرویشن آرگنائزیشن کے چیئرمین منظور احمد وانگنو مہمان ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کی۔ کئی ماہرین کے علاؤہ بڑی تعداد میں طالب علموں نے بھی شرکت کی۔اس پروگرام میں ماہرین اس بات پر زور دیاگیا کہ یہ نوجوانوں پر مبنی پہل طلباء، رضاکاروں اور مقامی برادری کو وادی بھر میں بگڑے ہوئے ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ اور بحالی میں شامل کرنے کے لئے ہیں۔اور ہر ماہ ایک متاثرہ مقام کی نشاندہی کی جائے گی، جہاں صفائی اور بحالی کا عمل انجام دیا جائے گا تاکہ پائیدار طرزِ زندگی اور ماحولیاتی شعور کو فروغ دیا جاسکے۔پرگروام میں یہ عہد کیاگیا کہ آئیے مل کر کشمیر کی زمین، پانی اور ہوا کوصاف وشفاف بنائیں گے۔محمد یوسف تاریگامی، ایم ایل اے اور چیئرمین، لیجسلیٹو کمیٹی برائے ماحولیات نے اس مشن کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی مکمل حمایت اور تعاون پیش کیا۔منظور وانگو، چیئرمین نگیں لیک کنزرویشن آرگنائزیشن نے یقین دلایا کہ این ایل سی او اور ایس ایس ایم مل کر کشمیر کے ماحولیاتی نازک خطوں میں مثبت تبدیلیاں لائیں گے اور عملی سطح پر کام کریں گے۔حیا قاضی، ایجوکیشن ایڈمنسٹریٹر ایس ایس ایم کالج نے شہریوں اور نوجوانوں کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پرعزم نوجوان سال بھر مختلف مقامات کو بحالی کے لیے کام جاری رکھیں گے۔مہمانانِ خصوصی نے کشمیر کے نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ کی فوری ضرورت پر روشنی ڈالی اور نوجوان نسل سے اپیل کی کہ وہ ماحول کے فعال محافظ بنیں۔تقریب کا اختتام اس اجتماعی عہد کے ساتھ ہوا کہ قدرتی وسائل کے تحفظ اور بحالی کے لیے مسلسل کوششیں کی جائیں گی تاکہ ایک زیادہ سرسبز اور پائیدار مستقبل کو یقینی بنایا جاسکے۔










