عالمی برادری وہ دہشت گردی کے مسئلے کو صرف علاقائی سیاست کے تناظر میں نہ دیکھے۔ ایس جے شنکر
سرینگر///پہلگام میں ہوا حالیہ دہشت گردانہ حملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لے آیا ہے کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک سرحد پار سے ہی پھلتا پھولتا ہے۔ بھارت نے اس واقعے کے بعد پاکستان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ “سرحد پار دہشت گردی” کی ایک اور تازہ مثال ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا سے گفتگو میں یاد دلایا کہ بھارت نے امریکہ سے 26/11 ممبئی حملوں کے سازشی، تہور رانا کی حوالگی حاصل کی ہے—یہ اقدام بھارت کے انسداد دہشت گردی عزم کا حصہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ عالمی دہشت گرد اسامہ بن لادن کو پاکستان میں ہی پناہ ملی تھی، اور آج بھی اْسے ڈھونڈ نکالنے میں کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی پاکستان کی جیل میں قید ہیں۔اس گفتگو کا پس منظر ایک امریکی فوجی جنرل کا حالیہ بیان ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کو “انسداد دہشت گردی میں غیر معمولی شراکت دار” قرار دیا تھا۔ جنرل مائیکل کریلا کا یہ بیان واشنگٹن میں کانگریس کی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے کردار کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد نے داعش خراسان کے کئی اہم شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔تاہم بھارت کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے برسلز میں ایک پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی دوطرفہ تنازع نہیں، بلکہ یہ دہشت گردی جیسے عالمی خطرے کا سنجیدہ جواب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف یک زبان ہونا ہوگا، اور جوہری بلیک میلنگ جیسی پالیسیوں کے آگے جھکنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جے شنکر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے مسئلے کو صرف علاقائی سیاست کے تناظر میں نہ دیکھے، بلکہ اسے ایک “مشترکہ عالمی چیلنج” سمجھتے ہوئے اس کے خلاف سخت اور مربوط مؤقف اختیار کرے۔سوال اب یہ ہے کہ جب پہلگام جیسے واقعات بار بار ہمیں جھنجھوڑتے ہیں، تو کیا عالمی ضمیر جاگے گا؟ کیا دوغلے معیاروں سے نکل کر دہشت گردی کے خلاف سچائی سے آواز اٹھائی جائے گی؟ یہ وقت صرف الفاظ کا نہیں، عمل کا ہے۔










