ستیش شرما نے بابانگری زیارت گاہ کنگن پر حاضری دی

ستیش شرما نے بابانگری زیارت گاہ کنگن پر حاضری دی

بابا نگر ی کنگن سے راجوری تک نئی بس سروس کا اِفتتاح کیا

کنگن//وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و امور صارفین، ٹرانسپورٹ، اِنفارمیشن ٹیکنالوجی، اَمورِ نوجوان و کھیل کود ستیش شرما نے حضرت میاں نظام الدین کیانی ؒ کے 129 ویں سالانہ عرس کے موقعہ پر ضلع گاندربل میں بابا نگری زیارت گاہ کنگن کا دورہ کیا۔ اُنہوں نے وہاں حاضری دی اور عقیدت مندوں اور مقامی اِنتظامیہ سے بات چیت کی۔ وزیر موصوف کا اِستقبال روحانی شخصیات، مقامی رہنماؤں اور بڑی تعداد میں موجود عقیدت مندوں نے والہانہ اور گرمجوشی سے کیا۔ دورے کے دوران اُنہوں نے عقیدت مندوںکے لئے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا اور علاقے میں بابا نگری کی روحانی و ثقافتی اہمیت کو اُجاگر کیا۔وزیر ستیش شرما نے بابا نگری کنگن سے راجوری کو ٹی آر سی سری نگر کے راستے سے جوڑنے والی جے کے آر ٹی سی خصوصی بس سروس کا اِفتتاح کیا و روانگی کے لئے ہری جھنڈی دِکھائی۔ اِس موقعہ پر رُکن پارلیمان میاں الطاف، ممبر قانون ساز اسمبلی میاں مہر علی اور جے کے آر ٹی سی کے اَفسران و عملہ بھی موجود تھے۔ یہ سروس خصوصاً پیر پنچال خطے کے دُور دراز علاقوں کے عقیدت مندوں کی سہولیت کے لئے متعارف کی گئی ہے۔اُنہوںنے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’’بابا نگری پورے جموں و کشمیر کے ہزاروں لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ اِس بس سروس کے آغاز کا مقصد بین الاضلاع رابطے کو فروغ دینا، مذہبی سیاحت کو ترقی دینا اور عقید ت مندوں کے سفر کو آسان بنانا ہے۔‘‘وزیر موصوف نے مزید کہا کہ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت مذہبی اور دُور دراز علاقوں کی ترقی کے لئے پُرعزم ہے اور خطے میں سڑکوں کی بہتری، ٹرانسپورٹ سہولیات اور عوامی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے مسلسل اقدامات کئے جا رہے ہیں۔مقامی باشندگان، عقیدت مندوںاور کمیونٹی رہنماؤں نے اس نئی بس سروس کا خیرمقدم کیا اور وزیر ستیش شرما کا شکریہ َادا کیا کہ اُنہوں نے اِس دیرینہ مطالبے پر ذاتی توجہ دی۔یہ بس سروس باقاعدہ طور پر فعال کی گئی ہے اور اس کی نگرانی و منصوبہ بندی جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (جے کے آر ٹی سی) کر رہا ہے۔ اِس اَقدام کو مختلف اَضلاع کے درمیان روحانی اور ثقافتی رشتے مضبوط کرنے کے ایک مؤثر قدم کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ دورے کے دوران وزیر موصوف نے اَفسران اور مقامی نمائندوں کے ساتھ علاقے کی مزید ترقیاتی ضروریات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔