قوم کو ہماری آرمڈ فورسز پر فخر ہے جنہوں نے ’آپریشن سندور‘ کی تاریخی فتح کی داستان بہادری سے رقم کی اور پہلگام دہشت گرد حملے کا بدلہ لیا۔ لیفٹیننٹ گورنر
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منو ج سِنہانے جمعرات کو سری نگر میں ہندوستانی آرمڈ فورسز کے جوانوں کی بہادری، جرأت اور حکمت عملی کی تعریف کرتے ہوئے ’’آپریشن سندور‘‘ کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردوں کے اَڈے تباہ کرنے اور اعلیٰ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر اُنہیں سلام پیش کیا۔اُنہوں نے کہا، ’’قوم کو ہماری آرمڈ فورسز پر فخر ہے جنہوں نے بہادری کے ساتھ ’’ آپریشن سندور ‘‘ کی تاریخی فتح کی داستان رقم کی پہلگام دہشت گرد انہ حملے کا بدلہ لیا۔’آپریشن سندور‘نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا رخ بدل دیا ہے۔ یہ ہمارے عسکری نظرئیے میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کی علامت ہے۔ دہشت گردی کے 9 بڑے کیمپ تباہ، 11 پاکستانی ایئر بیسز کو نشانہ بنایا گیا اورہائی پروفائل دہشت گردوں کا خاتمہ کیا گیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ ہماری آرمڈ فورسزنے نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی کی فیکٹریوں کو تباہ کیا ہے بلکہ اَب دہشت گردوں کو ایک ایک کر کے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران جنوبی کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں 6 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔اُنہوں نے زور دیتے ہوئے کہا،’’جموں و کشمیر کو دہشت گردی سے پاک کرنا ہمارا عزم ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہماری بہادر افواج شہریوں کی حفاظت اور ملک میں امن و خوشحالی کو یقینی بنانے کے لئے کارروائیاں جاری رکھیں گی۔اُنہوں نے کہا، ’’آپریشن سندور میں ہمارے سپاہیوں کی بہادری اب ہماری شاندار فتوحات کی روایت کا حصہ بن چکی ہے۔ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے اور اَب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس ملک اور وہاں بیٹھے دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈز میں کوئی فرق نہیں۔‘‘ لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا،’’دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ جموں و کشمیر یوٹی میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد پاکستان کرتا ہے اور ہماری طاقتور افواج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اَب ہم پاکستان کے مرکز میں داخل ہوں گے اور دہشت گردوں کو مار ڈالیں گے اور ہم مستقبل کی دہشت گردی کی کارروائیوں کو بھی جنگی کارروائی کے طور پر لیں گے۔‘‘ وزیر دفاع شری راج ناتھ سنگھ نے بھی سری نگر کے بادامی باغ کنٹونمنٹ اور سری نگر ایئر بیس پر بھارتی افواج کے جوانوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان کی ایٹمی بلیک میلنگ اَب کارگر نہیں ہوگی اور اس کے جوہری ہتھیاروں کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے اِی اے) کی نگرانی میں دیا جانا چاہیے۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے دہشت گردی کی حمایت جاری رکھی تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔










