سوپور//وزیر برائے زرعی پیداوار ، دیہی ترقیات و پنچایتی راج جاوید احمد ڈار نے شمالی کشمیر میں باغبانی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم اُٹھاتے ہوئے آج فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل منڈی سوپور کا دورہ کیا اور منڈی کے احاطے میں طویل عرصے سے زیرِ التوأمیکڈیمائزیشن کے کام کا اِفتتاح کیا۔یہ منصوبہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) کے تحت 117.63 لاکھ روپے کی تخمینہ لاگت سے مکمل کیا جا رہا ہے جس کا مقصد پھلوں کے کاشتکاروں اور تاجروں کے لئے ٹرانسپورٹیشن اور تجارتی حالات کو بہتر بنانا ہے۔ اِس اَقدام سے شمالی کشمیر کے کاشتکاروں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوا ہے۔وزیر موصوف نے میڈیا اَفرادسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت منڈی میں ایک جامع اور کاشتکار دوست ماحول بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’حکومت سڑک کی بہتری اور مزدوروں کے لئے سہولیات کو بہتر بنانے پر بھی کام کر رہی ہے جس میں لیبر سرائے کی تعمیر اور دیگر بنیادی سہولیات شامل ہیں۔‘‘اُنہوں نے مزید اعلان کیا کہ عنقریب سوپور منڈی میں ایک میگا کسان میلہ منعقد کیا جائے گا تاکہ بیداری کو فروغ دیا جاسکے، باغبانی شعبے میں نئی اِختراعات کو پیش کیا جا سکے اور کاشتکاروں کو نئی منڈیوں سے جوڑا جا سکے۔جاوید احمد ڈار نے سیکورٹی اور بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے کہا کہ منڈی میں جلد ہی اِضافی سی سی ٹی وِی کیمرے اور ہائی ماسٹ لائٹس نصب کی جائیں گی تاکہ نگرانی، حفاظت اور رات کے وقت کام کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیرموصوف کے ہمراہ رُکن قانون ساز اسمبلی سوپور اِرشاد رسول کار، ڈائریکٹر ہارٹی کلچر پلاننگ اینڈ مارکیٹنگ، ڈائریکٹر ا ینمل ہسبنڈری اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوپو ر بھی تھے۔ ٹیم نے جاری کاموں کا جائزہ لیا اور منڈی میں مختلف شراکت داروں سے ملاقات کی۔ بعد میں وزیر جاوید احمد ڈار نے ا چھہ بل سوپور کا دورہ کیا اور اُنہوں نے وہاں نئے تعمیر شدہ نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سینٹر( این ٹی پی ایچ سی) کی عمارت کا معائینہ کیا۔ اُنہوں نے متعلقہ ایجنسی کو ہدایت دی کہ وہ اس سہولیت کو محکمہ صحت کے حوالے کرنے میں تیزی لائیں تاکہ اسے جلد از جلد فعال بنایا جا سکے۔جاویداحمد ڈار نے عوامی اَثاثوں کی بروقت تکمیل اور مؤثر اِستعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کو عوام کے فائدے کے لئے بلا تاخیر خدمات میں تبدیل کرنا چاہیے۔دورے کا اِختتام اس یقین دہانی پر ہوا کہ حکومت سوپور اور شمالی کشمیر کے دیگر باغبانی علاقوں کی ترقیاتی ضروریات کو ترجیح دیتی رہے گی۔










