ڈیڈ لائن کے باوجود ہر گھر جل کی رفتار کند، سب سے کم کنکشنوں کی تنصیب چہ معنی خیز
سرینگر///جموں و کشمیر میں 2024 کو ’ہر گھر جل‘ اسکیم کے تحت دیہی علاقوں میں نل کے ذریعے صاف پانی فراہم کرنے کیلئے ایک اہم ہدف سال کے طور پر مقرر کیا گیا تھا لیکنکویڈ سالوں کو چھوڑ کر گزشتہ برس سب سے کم نل کے کنکشن نصب ہوئے، جس سے اسکیم اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہو نہ پائی۔تاہم 2024 میں جے جے ایم اسکیم کی سست رفتار ترقی نے جموں و کشمیر میں اس اہم منصوبے کی تکمیل میں سنگین چیلنجوں کو بے نقاب کیا ہے۔اس اسکیم کے تحت ہر دیہی گھر میں نل کے ذریعے پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کا منصوبہ تھا، مگر 2024 میں سب سے کم کنکشن نصب ہوئے۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر میں گزشتہ6برسوں میں جے جے ایم کے تحت کل 958,850 کنکشن نصب کیے گئے، مگر 2024-25میں صرف 110,800 کنکشن نصب ہوئے، جو پچھلے سالوں کے مقابلے میں سب سے کم اضافہ ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ گزشتہ سال کے آخر میں مکمل طور پر ہدف تک پہنچنے کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔اگرچہ کوویڈ کی وبا نے 2021 اور 2022 میں تاخیر کی تھی، ، مگر 2024 میں ہونے والی کمی توقع سے کہیں زیادہ تھی۔2019-20میں 207,294 کنکشن 2021-2020 میں، 215,579 کنکشن 2024-2023 میں اور 347,426 کنکشن نصب کیے گئے تھے، لیکن گزشتہ سال میں یہ تعداد کم ہو کر 110,800 تک پہنچ گئی۔ کویڈ وباء کے دوران سال2021-22میں57890اور2022-23میں 39861کنکشن نصب کئے گئے۔مقامی لوگوں، ماہرین اورمتعلقین کا کہنا ہے کہ حکومت کو باقی کاموں کو تیز کرنے پر زور دینا چاہیے تاکہ ہدف کو پورا کیا جا سکے، چاہے اس میں کچھ اضافی وقت لگے۔ ان کا کہنا ہے کہ جے جے ایم اسکیم دیہی علاقوں میں صاف پینے کے پانی تک رسائی بڑھانے کیلئے ایک اہم اقدام ہے، اور اگرچہ اس میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے، جموں و کشمیر میں مکمل تکمیل ابھی بھی ایک چیلنج ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 2024 میں نصب ہونے والے کنکشنوں کی کم تعداد اس بات کا اشارہ ہے کہ اس مشن کو مکمل طور پر کامیاب بنانے میں ابھی کچھ اور وقت درکار ہو گا۔جے جے ایم کے تحت جموں و کشمیر میں دیہی گھروں کو محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنے کی کوششوں کے باوجود، کئی گاؤں صاف پانی تک رسائی میں سنگین مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔محکمانہ دستاویزات کے مطابق اس وقت جموں کشمیر میں 10 گاؤں ایسے ہیں جہاں پائپوں سے پانی کی رسائی کی کوئی سہولت نہیں ہے۔اس کے باعث وہاں کے باشندے غیر محفوظ اور غیر معتبر پانی کے ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ خطہ میں 3,361 اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، جن میں سے اسکیمیں پانی کے کسی ذریعہ سے منسلک نہیں ہیں، جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انفراسٹرکچر موجود ہونے کے باوجود پانی کی فراہمی کا انتظام ناکافی ہے۔مرکزی زیر انتطام علاقے میں 15,836 رپورٹ شدہ ذاتی پانی کے کنکشنوں میں سے ابھی تک کسی بھی کنکشن کو مخصوص گھریلو ناموں سے نہیں جوڑا گیا ہے، اور صرف 231 کنکشنوں کو حکومت کے فعال نل کنکشن میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ ایک پیش رفت ہے، تاہم 15,605 کنکشن اب بھی حکومت کے نظام کے تحت صحیح طریقے سے ٹیگ ہونے کا منتظر ہیں۔ذرائع کے مطابق سوچ بھارت مشن کے تحت 450 گاؤں کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے شامل کرنے کی توقع تھی، لیکن 9 گاؤں کو جل جیون مشن کے تحت شامل نہیں کیا گیا ہے۔










