بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس کوئی مدعا نہیں اس لئے غیر ضروری معاملات کو اجاگر کررہی ہے

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطح میٹنگ منعقد ، اہم پہلوئوں پر ہوا تبادلہ خیال

ہماری آخری اپیل ہے کہ جمہوری طور پر منتخب حکومت کو مداخلت کے بغیر کام کرنے کی اجازت دی جائے / تنویر صادق

سرینگر// لیفٹنٹ گورنر کی جانب سے 48جے کے اے ایس افسران کا تبادلہ اور تقرریوں کے احکامات صادر کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں نائب وزیر اعلیٰ کی فیئر ویو رہائش گاہ پر ایک اہم میٹنگ ہوئی جس دوران تمام پہلوئو ں پر تبادلہ خیال ہوا ۔ میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ پارٹی نے نئی دہلی سے ایک آخری بارزور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں عوام کے بڑے مینڈیٹ کو کمزور نہ کرے اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کو مداخلت کے بغیر کام کرنے کی اجازت دے۔سی این آئی کے مطابق حالیہ دنوں جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے 48جے کے اے ایس افسران کے تبادلے اور تقرریوں کے بعد اس کی حکومتی سطح پر مخالفت ہوئی جس کے بعدوزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ا ۔ نائب وزیر اعلیٰ کی رہائشگاہ پر منعقد اس اجلاس میں تقریبا ً46ممبر ان اسمبلی نے شرکت کی اور تمام صورتحال پر واضح تبادلہ خیال ہوا ۔ میٹنگ ختم ہونے کے فوراً بعد نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان اور ممبر اسمبلی زیڈی بل تنویر صادق نے کانگریس لیڈر اور ممبر اسمبلی بانڈی پورہ نظام الدین بٹ کے ہمراہ، میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’آج کی میٹنگ میں اہم مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی، بشمول پارلیمنٹ میں منظور کردہ وقف بل۔ یہ بل ملک میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف ہے، اور ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ ایک اور اہم مسئلہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی طرف سے این سی کی قیادت والی حکومت کو دیا گیا مینڈیٹ تھا۔ ہم نے ایک بار پھر حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مینڈیٹ کا احترام کرے۔اور یہ دو قرار دادیں غیر مذاکراتی طور پر منظور کی گئیں‘‘۔یہ کہتے ہوئے کہ مرکز کو ان کے تعاون کو کمزوری کے طور پر غلط نہیں سمجھنا چاہئے تنویر نے مزید کہا’’ہم یہ اپیل آخری بار کر رہے ہیں ۔درخواست کے طور پر نہیں بلکہ ایک سخت تنبیہ کے طور پر: ہمیں دیوار سے مت دھکیلیں‘‘۔کانگریس لیڈر نظام الدین بٹ جنہوں نے بھی میٹنگ میں شرکت کی نے صحافیوں کو بتایا کہ طویل مدتی اور قلیل مدتی دونوں امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا’’کچھ سینئر قائدین شرکت نہیں کرسکے، لیکن مجھے دیگر قائدین کے ساتھ کانگریس کی نمائندگی کرنے کا حکم دیا گیا‘‘ ۔انہوں نے کہا ’’ حکومت میں تمام ممبر اسمبلی قائد ایوان کے پیچھے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ وقف بل اور عوامی مینڈیٹ جیسے حساس معاملات پر، اس بات پر متفقہ اتفاق ہے کہ ان مسائل کو مرکز کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے‘‘۔