جموں//چیف سیکرٹری اَتل دولو نے حکمرانی اور ترقی کے لئے اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کو بروئے کار لانے کی سمت میں ایک اہم قدم اُٹھاتے ہوئے بھاسکر آچاریہ نیشنل اِنسٹی چیوٹ فار سپیس ایپلی کیشنز اینڈ جیو۔انفارمیٹکس ( بی آئی ایس اے جی ۔ این)ساتھ اِشتراک پرغور و خوض کرنے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی،تاکہ سینٹر آف ایکسی لینس جموں و کشمیر میں قائم کیا جا سکے۔میٹنگ میں ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس اے جی ۔ این ٹی پی سنگھ اور سپیشل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ونئے ٹھاکر نے شرکت کی جنہوں نے ممکنہ تکنیکی مداخلتوں، جاری قومی منصوبوں اور دیگر ریاستوں میں اپنائے جانے والے ادارہ جاتی فریم ورک کا جائزہ پیش کیا۔جموں و کشمیر میں سینٹر آف ایکسی لینس( سی او اِی)کے مجوزہ ڈھانچے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاجو وزارتِ الیکٹرانکس اینڈانفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم اِی آئی ٹی وائی)کے تحت مرکزی حکومت کے وژن اور اس کے فلیگ شپ اِنڈیا اے آئی مشن کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جو مختلف شعبوں میں آرٹیفیشل اِنٹلی جنس ( اے آئی) اور ڈیجیٹل اِختراعات کو فروغ دیتا ہے۔چیف سیکرٹری نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کوآرٹیفیشل انٹلی جنس( اے آئی)، مشین لرننگ (ایم ایل)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جی آئی ایس پر مبنی فیصلہ سازی کو حکمرانی میں شامل کرنے کے حوالے سے ایک قومی مثال بننا چاہیے۔ اُنہوں نے مختلف محکموں کو ہدایت دی کہ وہ ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کریں جو بی آئی ایس اے جی ۔ این کی مہارت سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور وزارتِ الیکٹرانکس اینڈانفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم اِی آئی ٹی وائی) کو جلد از جلد باضابطہ تجویز پیش کرنے کے لئے کہا۔ اُنہوں نے آئی آئی ٹی جموں کے ساتھ صلاحیت سازی اور علمی اِشتراک پر بھی غور کرنے کی تجویز دی۔اِس موقعہ پرڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس اے جی۔ این ٹی پی سنگھ نے واضح اور قابلِ پیمائش اہداف کے ساتھ نتائج پر مبنی عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے نشاندہی کی کہ ان ٹیکنالوجیوں کو فعال کرنے والے بنیادی مضامین ۔ جغرافیہ، ریاضی اور اِنفارمیشن ٹیکنالوجی کو اس کے روڈ میپ کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ اُنہوں نے مقامی نوجوانوں کو ترقی اور عمل درآمد میں شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دیرپایت اور خطے میں مہارت کی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔ سپیشل ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس اے جی۔ این ڈاکٹر ونئے ٹھاکر نے ادارے کی قومی سطح کے اَقدامات پر بات کی اور محکمہ جاتی ضروریات کے مطابق مخصوص ایپلی کیشنز ڈیزائن کرنے میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔میٹنگ میں جموں و کشمیر حکومت اور بی آئی ایس اے جی ۔این کے درمیان ایک ممکنہ مفاہمت نامے (ایم او یو) پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت دی کہ تمام رسمی کارروائیاں جلد مکمل کی جائیں تاکہ منصوبے کی عمل آوری کا آغاز کیا جا سکے۔اِس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن و فائنانشل کمشنر شانت منو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اورفائنانشل کمشنر ریونیو شالین کابرا، پرنسپل سیکرٹری پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ایچ راجیش پرساد،پرنسپل سیکرٹری فائنانس ڈیپارٹمنٹ سنتوش دتاتریہ ویدیا،کمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ سوربھ بھگت، کمشنر سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ایم راجو، کمشنر سیکرٹری ٹوراِزم ڈیپارٹمنٹ یشا مدگل، ڈائریکٹرصنعت و حرفت ارون کمار منہاس، ڈپٹی ڈائریکٹر سماجی بہبود محکمہ ثناء خان اور اِنتظامیہ کے دیگر اعلیٰ اَفسران نے شرکت کی۔
چیف سیکرٹری نے بی آئی ایس اے جی۔ این کے تعاون پر شکریہ اَدا کیا اور اس شراکت کو جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل حکمرانی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کی جانب ایک اِنقلابی قدم قرار دیا۔مختلف محکموں کے ایڈمنسٹریٹیو سیکرٹریوں اور سینئر اَفسران نے تعاون کے ممکنہ شعبوں پر جامع تجاویز پیش کیں۔ ان میں ڈیجیٹائزیشن، آٹومیشن اور زمینی ریکارڈ کی رئیل ٹائم اپڈی ٹیشن اور ریونیو اینڈ لینڈ ریکارڈ ڈیپارٹمنٹ میں حقوق کے ریکارڈ شامل تھے۔اُنہوں نے سیاحت میں حقیقی وقت میں سیاحوں کی سہولیت، سیاحت کو بڑھانے کے لئے تجزیات اور سیاحوں کے بہاؤ کے سمارٹ مینجمنٹ پر تبادلہ خیال کیا۔ پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ بجلی کی خریداری کی نگرانی اور پیشن گوئی کے تجزیات کا اِستعمال کرتے ہوئے ٹرانسمیشن اور ڈِسٹری بیوشن نقصانات کو کم کرنے سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔یہ اقدامات اِنڈسٹریز اینڈ کامرس میں ایم ایس ایم ایز کے لئے ابتدائی وارننگ سسٹم اور سروس ڈلیوری فریم ورک کو بہتر بنانا ، جی ایس ٹی اور فائنانس میں آرٹیفیشل اِنٹلی جنس پر مبنی بے قاعدگیوں کی شناخت اور ٹیکس فراڈ کی روکتھام ،جل شکتی اور آبیاشی میں سیلاب کی نگرانی ، آبی وسائل کی میپنگ اور سٹیلائٹ امیجری اور اے آئی ماڈلوں کے ذریعے آبپاشی نیٹ ورک کی بہتر بنانے پر غور کیا گیا ۔ یہ اَقدامات جموں و کشمیر میں بہتر حکمرانی، شفافیت اور ڈیجیٹل ترقی کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گے۔










