سرینگر //ریاسی میں ہماری ریاست ہمارا حق کے تحت مہم پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت میں پردیش کانگریس کے صدر طارق حمید قرہ نے کہا ہے کہ ریاستی درجہ ہمارا حق ہے اور مرکزی سرکار کو یہ حق دینا ہی ہوگا۔ انہوںنے بتایا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اتحاد میں کوئی دراڑ نہیں ہے اور کچھ عنصر اس کو اپنے مفادات کی خاطر گردانتے ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق حمید قرہ نے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ نیشنل کانفرنس کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ہے، کہا کہ ان کا (کانگریس، این سی) اتحاد کوئی چھپی ہوئی چیز نہیں ہے وہ ریاسی؎ میں پارٹی ورکرز کنونشن ’’ہماری ریاست، ہمارا حق‘‘ سے خطاب کے بعد میڈیا کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔طارق قرہ نے کہا کہ الیکشن کا وقت مختلف تھا اور اس وقت اتحاد بالکل مختلف ہے۔ یہ اتحاد قومی سطح پر بڑے مقصد کے ساتھ اور بڑے پیرامیٹرز کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔ اس کے تسلسل میں، ہم نے جموں و کشمیر میں بھی بی جے پی کو اقتدار کے گلیاروں سے دور رکھنے کے بڑے مقصد کے ساتھ ایک اتحاد قائم کیا۔انہوں نے کہا کہ اتحاد نے اس مقصد کو کامیابی سے حاصل کیا۔”لیکن میڈیا کے ذریعہ کانگریس اور این سی کے درمیان جھگڑے کی قیاس آرائی کے لئے جو نکات اٹھائے جارہے ہیںانہوںنے کہا کہ اگر ہم لوگوں کے مسائل اٹھاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپوزیشن میں ہیں۔ قانون ساز اسمبلی میں، این سی کے ارکان بھی لوگوں کے مسائل اٹھائیں گے، جو حل نہیں ہوئے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے خلاف جا رہے ہیں۔ اسمبلی کا مطلب ایک ایسا فورم ہے جہاں ایم ایل اے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ (لوگوں کے مسائل کو اٹھانا) این سی، کانگریس اور بی جے پی کے ایم ایل ایز جمہوریت کی حقیقی روح میں کریں گے۔ اسے دوسری صورت میں نہیں دیکھنا چاہئے۔










