manooj sinha

لتہ پورہ پلوامہ حملے کی برسی پر مہلوک اہلکاروں کوخرا ج عقیدت ۔ لیفٹیننٹ گورنر

جموں کشمیر میں ’’دہشت گردی ‘‘کیلئے کوئی جگہ نہیں امن بگاڑنے والوں کو سخت کارروائی کا سامنا رہے گا

سرینگر//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو سی آر پی ایف کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے 2019 میں اس دن جموں اور کشمیر کے پلوامہ میں دہشت گردانہ حملے میں اپنی جان گنوائی۔اس دوران لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس عزم دہرایاکہ جموں کشمیر میں ملٹنسی کے مکمل خاتمہ تک’’دہشت گردی ‘‘ کے خلاف زیروٹالرنس پالیسی جاری رہے گی ۔ انہوںنے کہاکہ جموں کشمیر میں امن کو خراب کرنے کی اب کسی کو ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور امن کوبگاڑنے والے عناصر کو سخت کارروائی کاسامنارہے گا۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سال 2019میں لتہ پورہ پلوامہ میں ہوئے حملے میں چالیس سے زیادہ سی آر پی ایف اہلکار ہلاک ہوئے تھے ۔ پلوامہ حملے کی برسی پر مہلوک اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایل جی نے بتایا کہ ان جانبازوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی جنہوںنے امن کی خاطر اپنی جانیںنچھاور کیں ہیں۔ ایل جی نے ایکس پر لکھا کہ مادر وطن کی خدمت میں ان کی عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ایل جی نے X پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہمارے بہادر ہیروز کی ہمت اور بے لوث عزم نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا۔انہوںنے مزید لکھا کہ جموں کشمیر میں امن بگاڑنے والوں کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ انہوںنے مزید کہا کہ دہشت گردی کو بڑھاوادینے والوں کو سخت کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوںنے ملٹنسی کے خلاف زیروٹالرنسی کی پالیسی کااعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملٹنسی کے خاتمہ کیلئے ہرممکن اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ یاد رہے کہ جموںو کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو کہا تھا کہ خطہ میں دہشت گردی کے ہر مجرم اور حامی کو اس کی قیمت چکانی ہوگی۔ وہ جموں و کشمیرمیں سیکورٹی کی صورتحال سے متعلق جائزہ میٹنگ کی صدارت کررہے تھے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہماری توجہ جموں ڈویڑن سے دہشت گردی کا مکمل صفایا کرنے پر مرکوز ہونی چاہئے۔”ہمیں جموں کے علاقے میں دہشت گردی کی باقیات بھی نہیں ہونی چاہئیں۔ دہشت گردی کا صفایا کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں اور بنیادی ڈھانچے اور دہشت گردی کی مقامی حمایت کو مکمل طور پر ختم کرنے کو یقینی بنائیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے پولیس حکام کو ہدایت دی کہ وہ دہشت گردی کو لاجسٹک اور مالی مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت ترین ممکنہ کارروائی کریں۔”اس بات کو یقینی بنائیں کہ معاشرے میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے افراد یا گروہوں کی کارروائیوں کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔