عادی افراد کے علاج کے لئے کوئی انتظام نہیں ،کونسلنگ کیلئے مخصوص مراکز بنانے کی ضرورت
سرینگر / /منشیات کے استعمال کی پہلی سیڑھی سگریٹ نوشی ہے، جبکہ پہلے سے نشے کے عادی افراد بھی منشیات فروشوں کے آلہ کار بن کر دوسروں کو مفت منشیات کی لت لگا کر بعد ازاں انہیں منشیات فروخت کرنے لگتے ہیں۔منشیات کا استعمال اتنی بری عادت ہے کہ یہ انسان سے جائز و ناجائز ہر کام کروا لیتی ہے چاہے وہ کسی بے گناہ انسان کا قتل ہی کیوں نہ ہو۔جبکہ جرائم کے واقعات کو دیکھا جائے تو آدھے سے زیادہ جرائم نشے کی وجہ سے ہوتے ہیں، بیشتر ٹریفک حادثات بھی عموماً اسی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 15سے 64سال عمر کے تقریباً 35 کروڑ افراد منشیات کے عادی ہیں۔بین الاقوامی سطح پر منشیات کے عادی افراد کے علاج کیلئے مخصوص اسپتالوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور جو موجود ہیں وہاں سہولتیں ناکافی ہیں جبکہ غیر سرکاری طور پر یہ علاج بہت مہنگا پیچیدہ اور طویل ہے۔ ہمارے معاشرے میں پان، نسوار، گٹکا، چھالیہ، سگریٹ جیسی نشہ آور اشیاء کو نشہ تصور ہی نہیں کیا جاتا، جبکہ درحقیقت انہی سے دیگر نشہ آور اشیاء کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔ منشیات میں سگریٹ، چھالیہ، نسوار، پان، چرس اور شیشہ وغیرہ کی مقبولیت کے بعد اب ائس نامی مہنگے نشے کا بھی اضافہ ہوگیا ہے جو کہ نوجوان نسل کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں۔ نوجوانوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ائس نشہ بہت ہی طاقتور اور اثرپذیر ہے، جس کی ایک خوراک ہی انسان کو اس کا عادی بنادیتی ہے۔اس سے انسان کا حافظہ کمزور ہوجاتا ہے اور یہ اعصابی امراض کے ساتھ گردوں اورجگر کے لئے بھی انتہائی مہلک ہے۔بدقسمتی سے نشے کا استعمال تعلیمی اداروں میں بھی فروغ پا رہا ہے ، جہاں اسکول ،کالج اوریونیورسٹیوںکے لڑکے لڑکیاں اس کے استعمال کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی معذوری کے ساتھ ساتھ حلق کی خرابی، جگر کی خرابی، امراض قلب، قلت عمر، معدہ کے زخم، فاسد خون، تنفس کی خرابی، کھانسی، سردرد، بے خوابی، دیوانگی، ضعف اعصاب، فالج، ٹی بی، بواسیر، دائمی قبض، گردوں کی خرابی جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ اسی طرح لڑکیاں سیگریٹ کے علاوہ نشہ آورچیزوں کا استعمال کررہی ہیں،۔افسوس صد افسوس !کہ معاشی اصلاح کا علم اٹھانے والی سماجی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے منشیات سے پاک معاشرہ تشکیل دینے کی سمت میں کوئی ٹھوس اور موثر اقدام نہیں اٹھایا جارہا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس گھناونے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرکے ان ضمیر فروشوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ کو بھی چاہئے کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں کیونکہ صحبت صالح ترا صالح کنند ،صحبت طالعہ ترا طالع کنندیعنی اچھے لوگوں کی صحبت میں رہنے اچھائی اور بُرے لوگوں کی صحبت میں برائی حاصل ہوتی ہے ۔ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد، ڈاکٹرز و طبی امور سے وابستہ افراد کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ معاشرے سے منشیات کی لعنت کے خاتمے کے لیے اپنی اپنی سطح پر اور اپنے دائرہ کار میں مکمل کوشش کریں۔










