rain

وادی کشمیر میں گذشتہ تین ماہ سے بارش نہ ہونے سے برا حال

خْشک سالی جیسی صورتحال ، کسان اور باغ مالکان پریشان

سرینگر//رواں سال وادی کشمیر میں بدلتے موسمی حالات کی وجہ سے میوہ جات اور دیگر فصلوں کے علاوہ جنگلات پر بھی بْرے اثرات مْرتب ہورہے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر کے دیگر حصوں کی طرح ہی ضلع اننت ناگ اور پلوامہ میں بھی مْسلسل خْشک سالی سے مختلف میوے کی پیداوار متاثر ہورہی ہے۔رواں سال وادی کشمیر میں بدلتے موسمی حالات کی وجہ سے میوہ جات اور دیگر فصلوں کے علاوہ جنگلات پر بھی بْرے اثرات مْرتب ہورہے ہیں۔ وادی کشمیر کے دیگر حصوں کی طرح ہی ضلع اننت ناگ اور پلوامہ میں بھی مْسلسل خْشک سالی سے مختلف میوے کی پیداوار متاثر ہورہی ہے۔ رواں سال مئی ماہ سے ہی بارشیں نہ ہونے سے اننت ناگ اور پلوامہ میں ندی نالوں اور قْدرتی چشموں میں پانی کی سطع کافی کم ہوئی ہے جس کی وجہ سے ضلع اننت ناگ اور پلوامہ کے مختلف دیہات میں قائم ا?بپاشی اور واٹرسپلائی اسکیمیں ناکارہ ہوئی ہیں۔ جس کے باعث ضلع کے کء علاقوں میں خْشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوگء ہے۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق وادی کشمیر میں بارش نہ ہونے اور آبپاشی اسکیمیں ناکارہ ہونے سے جہاں سیب کی فصل پر مختلف بیماریاں نمودار ہوئی ہیں۔ وہیں ضلع اننت ناگ اور پلوامہ کے میدانی علاقوں میں دھان کی فصل بھی خشک سالی کی شکار ہوئی ہے۔ ضلع اننت ناگ اور پلوامہ میں اکثر میوہ باغات کریواس پر موجود ہے، جن میں کچھ میں سیب کے باغات بارش کے اعلاوہ ا?بپاشی اسکیموں پر منحصر ہے۔ لیکن بارشیں نہ ہونے سے ضلع اننت ناگ اور پلوامہ سے گْذرنے ولاے دریاے جہلم، نالہ برنگی ، نالہ ساندرن ، نالہ آرپتھ اور نالہ رنبی ا?رہ کے اعلاوہ نالہ رومشی میں پانی کی سطع کافی کم ہویی ہے۔ جس کی وجہ سے ان پر قائم اکثر ا?بپاشی اسکیمیں ناکارہ ہوئی ہیں، جن کریواس پر ا?بپاشی کی اسکیم نہیں ہے۔ وہاں پر لوگ بادام کی کاشت کرتے ہیں جوکہ صرف بارشوں پر ہی منحصر رہتے ہیں۔ لیکن اس بار بارش نہ ہونے سے بادام کی فصل بھی متاثر ہوئی ہے۔بارشیں نہ ہونے سے ندی نالوں میں پانی کی سطح کم ہونے سے ضلع کے کء علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیمیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ جس سے ضلع پلوامہ کے متعدد علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت پائی جارہی ہے۔ عام لوگوں اور میوہ کاشتکاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ ایسی ہی صورتحال رہی تو اس بار سیب اور دیگر فصلیں کافی متاثر ہوں گی۔ جس سے کاشتکاروں کو کافی مالی نْقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔