جس اسکول میں بچے زیادہ وہاں فیزیکل ایجوکیشن استاد نہیں ، جہاں رول کم وہاں زیادہ استاد تعینات
سرینگر///جموں و کشمیر میں اگر چہ کئی سالوں سے سرکار کی جانب سے کھیل کود سرگرمیوں کو بڑھاوہ دیا گیا تاکہ جموں و کشمیر کے ہر کونے سے نوجوان _ طلبہ و طالبات کھیل کود سرگرمیوں میں حصہ لے جس میں سرکار کچھ حد تک کامیاب بھی ہوگئی۔ لیکن جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں داستان کچھ اور ہے یہاں بیشتر گورنمنٹ اسکولوں میں طلبہ و طالبات کو کھیل کھیلنے کا موقع نہیں مل رہا ہے جسکی وجہ سے وہ کھیل کود سرگرمیوں میں حصہ لینے کے بجائے سماجی برائی کی طرف مائل ہورہے ہیں اس دوران علاقے کے لوگوں کے مطابق ہم نے یہ مسئلہ بار ہاسرکار کے نوٹس میں لایا لیکن یقین دہانی کرائی جاتی ہیں زمینی سطح پر کوئی اقدام نہیں اُٹھایا جاتا۔ وائس آف انڈیا کے مطابق گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول دمہال ہانجی پورہ جہاں پچھلے ایک سال سے فیزیکل ایجوکیشن استادکے بغیر ہے جس میں 500 سے زاہد اسکول کا رول ہے اسی طرح ہائیر سیکنڈری اسکول کھل احمد آباد میں بھی کوئی بھی استاد موجود نہیں ہے ہایر سیکنڈری اسکول دنیو کنڈی مرگ فیزیکل ایجوکیشن لیکچرار اور ماسٹر کے بغیر ہے جہاں 1000 طلبہ زیر تعلیم ہیں ہایر سیکنڈری اسکول منزگام جہاں 500 سے زائد طالبات زیر تعلم ہیں وہاں بھی فیزیکل ایجوکیشن لیکچرار اور ٹیچر کے بغیر ہے اسی طرح گرلز میڈل اسکول کھوری بٹہ پورہ میں پچھلے تین سالوں سے کوئی بھی استاد موجود نہیں ہے جس میں تقریباً 1000 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہے اسی طرح گرلز ہائر سیکنڈری اسکول کولگام میں بھی فیزیکل ایجوکیشن ماسٹر کے بغیر ہے جہاں ہزار رول ہے المیہ یہ ہے کہ جس اسکول میں 50 کے آس پاس رول ہے وہاں محکمہ کی جانب سے دو دو استاد تعینات رکھے گئے ہیں اور محکمہ کے اعلیٰ آفسران اس پر کوئی بھی کاروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے بچوں کے والدین نے وائس آف انڈیا کے نمائندے غلام نبی کھانڈے کو بتایا کہ محکمہ ہمارے بچوں کو کھیل کود سرگرمیوں میں دور رکھا جارہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے بچوں کا مستقبل خراب ہوجائے اور ہمارے بچے سماجی برائیوں کی طرف توجہ دے ، والدین و اسکول کے بیشتر بچوں نے گورنر شری منہاج سنہا سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں زاتی مداخلت کریں اور خالی جگہوں اسکولوں میں بچوں کو کھیل کود سیکھنے کے لئے استاستاد تعنات کریں۔










