سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے آج جے کے سمادھان اَقدام کا جائزہ لیاجو یو ٹی اِنتظامیہ کے ذریعہ بھاسکراچاریہ نیشنل اِنسٹی چیوٹ فار سپیس ایپلی کیشنز اینڈ جیو اِنفارمیٹکس (بی آئی ایس اے جی۔این) کے اِشتراک سے شروع کیا گیا ایک اہم گڈ گورننس پروجیکٹ ہے۔جائز ہ میٹنگ میں اِس اقدام کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے اقدامات کا جائزہ لینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔میٹنگ میں اَیڈیشنل چیف سیکرٹری فار فارسٹ ایکولوجی اینڈ انوارنمنٹ، کمشنر سیکرٹری آئی ٹی، سیکرٹری عوامی شکایات اور بی آئی ایس اے جی۔ این ٹیم کے ممبران سمیت دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔جائزہ کے دوران چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے جے کے سمادھن اقدام کی پیش رفت کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کیں جس میں بی آئی ایس اے جی ۔این کی طرف سے مکمل کی گئی فعالیتوں کا تفصیلی بیان شامل ہے۔ اُنہوں نے بقیہ کاموں میں تیزی لانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ یہ اقدام فوری طور پر عوام کے لئے وقف کیا جائے۔کلیدی ہدایات جاری کی گئیں جس میں ایپ کے لئے ایک جامع صارف مینوئل کی تیاری بھی شامل ہے تاکہ اس کی رَسائی اور صارف دوستی کو بڑھایا جاسکے۔اَتل ڈولونے تجویز دی کہ اٹیچ منٹ سیکشن میں ویڈیو اور آڈیو جیسے ملٹی میڈیا عناصر کو شامل کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صارفین کو شکایات یا گریوینس درج کرتے وقت اُن کی پسند کی زبان میں پیغامات موصول ہوں۔اُنہوں نے یہ بھی سفارش کی کہ حتمی قراردادوں کو گزیٹیڈ آفیسرسے منظور کیا جائے اور حکومت کی رَسائی اور ردِّعمل کو مزید بہتر بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجیوں کے انضمام کی تجویز پیش کی۔چیف سیکرٹری نے تمام افسران پر زور دیا کہ وہ ایپ کے بروقت رول آؤٹ کو یقینی بنانے کے لئے مؤثر طریقے سے تعاون کریں۔دورانِ میٹنگ بی آئی ایس اے جی۔این کی ٹیم نے جے کے سمادھان ایپ میںمربوط اِصلاحی اَقدامات اور جدید ٹیکنالوجیوں کے بارے میں تفصیلی اپ ڈیٹ پیش کی۔اُنہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جے کے سمادھان پچھلے نظاموں ، جے کے آئی جی آر ایم ایس اور سی پی جی آر اے ایم ایس کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی نمائندگی کرتا ہے جس میں کثیر لسانی آرٹیفیشل اِنٹلی جنس پر مبنی پلیٹ فارم موجود ہے۔نیا نظام شکایات کو متعلقہ محکموں کو خود کار طریقے سے آگے بھیجنے، بروقت اَپ ڈیٹس، فوری اعترافات اور کثیر لسانی آواز کو ممکن بنائے گا۔ایپ شکایات کی ترجیحات، ڈیش بورڈ کی مختلف اقسام اور جامع رپورٹنگ بھی پیش کرے گی۔ اُمید ہے کہ جے کے سمادھان جلد ہی مکمل طور پر فعال ہوجائے گا۔










