پنشنروں کی ذاتی جانچ پڑتال کا معاملہ

اس میں کوئی پریشانی والی بات نہیں ، یہ عمل پنشنروں کے حق میں ہی ہے ۔ متعلقہ محکمہ

سرینگر//وادی کشمیر میں پنشنروں کی ذاتی جانچ پڑتال کے سرکاری حکمنامے کے بعد جہاں پنشنروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے وہیں متعلقہ محکمہ نے کہا ہے کہ یہ عمل پنشنروں کے حق میں ہے اور اس کو ایک بار ڈیجٹلائز کرنے کے بعد پنشنروں کو بار بار دفاتر کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے ۔ انہوںنے بتایا کہ کوئی بھی پنشنر جو خس کو ٹریجری میں آنے میں دشواریوں کا سامنا کرنے پڑے گا اس کو ٹریجری دفتر آنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ محکمہ خود ہی اس کے گھر جاکر لوازمات پورا کرے گا جبکہ پنشنروں کو ستمبر کے آخر تک لوازمات پورے کرنے ہوں گے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں گزشتہ کئی دنوں سے پنشنروں میں اس بات پر تشویش پایا جارہا ہے کہ انہیں ذاتی طور پر ٹریجریوں میں جاکر وہاں پر لوازمات پورے کرنے کے احکامات جاری کئے جاچکے ہیں ۔ اس سلسلے میں کئی ملازم انجمنوں اور دیگر حلقوں نے بھی بیانات جاری کئے تھے تاہم متعلقہ محکمہ نے بتایا ہے کہ یہ عمل ملازمین کے ہی حق میں ہے ۔ انہوںنے کہا ہے کہ اگر کوئی پنشنر بستر مرض پر ہے یا عمر رسیدہ ہے یا کسی اور وجہ سے وہ خود ٹریجری دفتر نہیں آسکتا تو اس کو کئی مجبور نہیں کرے گا بلکہ محکمہ کا ہی عملہ ان کے گھر جاکر لوازمات پورا کرے گا۔ انہوںنے بتایا کہ پنشنروں کو پریشان نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ اس میں فی الحال کوئی جلدی نہیں ہے اور یہ عمل ماہ ستمبر کے آخر تک چلے گا ۔ انہوںنے بتایا کہ یہ پنشنروں سے متعلق جانکاری ڈیجیٹلائز کرنے کا عمل ہے اس میں کوئی دوسرا مسئلہ نہیں ہے ۔پنشنروں سے کے فون نمبران ، نیا فوٹو گراف ، دستخط ، عمر اور دیگر جانکاری کمپوٹرائزڈ کی جارہی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ پنشنروں کا ماہانہ پنشن بند نہیں کیا جائے گا۔انہوںنے بتایا کہ ٹریجریوں میں عملہ کی کمی ہے جس کے نتیجے میں کام میں تھوڑا سا وقت لگ جاتا ہے تاہم محکمہ نے ایل جی انتظامیہ سے پہلے ہی درخواست کی ہے کہ عملہ بڑھایا جائے تاکہ کام بلا خلل جاری رہ سکیں۔ انہوںبتایا کہ ٹریجریوں میں صبح 10بجے سے شام 4:30بجے تک کام چالو رہتا ہے اور اس بیچ پنشنر کسی بھی وقت آسکتے ہیں۔