dooran

اوڑی میں دو روز تک تلاشی مہم جاری رہنے کے بعد ایک دراندازی کی ہلاکت کا دعویٰ

دیگر مبینہ دراندازوں کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ، وسیع علاقے میں سیر چ آپریشن

سرینگر//سیکورٹی فورسز نے اوڑی کے قریب ایک درانداز کو ہلاک کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ دہشت گرد دراندازی کی کوشش کر رہے تھے۔ اس دوران ایک ہلاک ہوگیاجبکہ علاقے میں سیر آپریشن ہنوز جاری ہے ۔ مہلوک شدت پسند کی شناخت فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی البتہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ پاکستانی تھا وائس آف انڈیا کے مطابق سیکورٹی فورسز نے شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے اوڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ دراندازی کی سازش کو ناکام بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق لائن آف کنٹرول پرشدت پسندوں کے ایک گروپ کی سرگرمیوں کے بارے میں اطلاع تھی جس کی بنیاد پر فوج نے ایل او سی کے قریب کئی مقامات پر ناکہ بندی کر دی تھی۔اس دوران سرحد پر مشکوک سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ شدت پسندوں کا پتہ چلنے پر انہیں للکارا گیا جس کے نتیجے میں انکاؤنٹر ہوا۔ فائرنگ کے ساتھ ہی مسلح افراد فرار ہوگئے۔ حکام نے بتایا کہ گوہلان علاقے میں دراندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔اس ضمن میں فوج نے کہا ہے کہ وہ اڑی کے قریب ایک دہشت گرد کو مارنے میں بھی کامیاب رہی۔ فی الحال مارے گئے دہشت گردوں کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ سیکورٹی فورسز دہشت گرد کی شناخت میں مصروف ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل بدھ 21 جون کو بالامولہ میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں دو پاکستانی دہشت گرد مارے گئے تھے۔ ان دونوں کا تعلق تشکر طیبہ سے تھا۔ اس علاقے میں 2005 سے 2015 تک دہشت گردی پھیلی۔ تاہم، 2019 میں جموں و کشمیر پولیس کی ایک مہم کے تحت بارہمولہ ضلع کو دہشت گردی سے پاک قرار دیا گیا تھا۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق پاکستانی نژاد غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد اس وقت مقامی دہشت گردوں سے زیادہ ہے تاہم انہیں ختم کیا جا رہا ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امرناتھ یاترا کے لیے جموں و کشمیر میں نیم فوجی دستوں کی تعیناتی شروع کر دی گئی ہے۔ جموں ضلع کو اس بار نیم فوجی دستوں کی 24 اضافی کمپنیاں موصول ہوئی ہیں جو کہ پچھلے سال کے مقابلے پانچ سے چھ زیادہ ہیں۔ پہلی بار امرناتھ یاترا کے روٹ پر تعیناتی کے علاوہ یاتریوں کے روکے جانے والے مقامات، لنگر اور دیگر مقامات پر نیم فوجی دستوں کو بھی ان مقامات پر تعینات کیا جا رہا ہے جہاں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے پیش آنے کا خدشہ ہے۔نیم فوجی دستوں کی 10 کمپنیاں جموں پہنچ گئی ہیں، جنہیں پرانی منڈی، رام مندر، پیرکھو مندر، بھگوتی نگر بیس کیمپ میں تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پورمنڈل موڑ سے جھجر کوٹلی تک پوری شاہراہ پر فوجیوں کو بھیجا گیا ہے۔ اس میں کنجوانی، گنگیال، سدادا، نگروٹہ کے علاقے شامل ہیں۔ دیگر کمپنیاں بھی آئندہ چند روز میں پہنچ جائیں گی۔ ان اضافی کمپنیوں کے علاوہ جموں و کشمیر پولیس کے جوانوں کو بھی تعینات کیا جائے گا۔ ان مقامات کے علاوہ پولیس نے آر ایس پورہ، سوچیت گڑھ، اکھنور، پرگوال، جیودیان، کھود، ارنیا، عبدلیاں، میران صاحب کے علاقوں میں کچھ مقامات کی نشاندہی کی ہے جنہیں دہشت گرد نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان مقامات پر نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان میں ITBP، SSB، CISF کی کمپنیاں شامل ہیں۔مجموعی طور پر پورے جموں ضلع میں مختلف مقامات پر نیم فوجی دستوں اور پولیس سمیت تقریباً 15 ہزار سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے اس سال 20 فیصد زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔ ایس ایس پی جموں ونود کمار کا کہنا ہے کہ یاترا کی سیکورٹی کے لیے کافی تعداد میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ کچھ حساس علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں خصوصی سیکیورٹی ہوگی۔