اگلے دس دنوںمیں ریاسی سرینگر ریل سروس چالو ہوگی، 15اگست کو سرینگر سے جموں ریل شروع ہونے کا امکان
سرینگر//سرینگر بارہمولہ اور ریاستی کے بیچ اگلے دس دنوں میں ریل سروس شروع ہونے جارہی ہے جبکہ سرینگر اودھمپور کے درمیان ریل لنک میں صرف 15کلو میٹر کا فاصلہ رہ گیا ہے جو کو ابھی پورا کرنا باقی ہے اور اندازہ لگایا جارہا ہے کہ 15اگست تک یہ مکمل ہوگا اور یوم آزادی کے دن اس کو قوم کے نام وقف کیا جائے گا ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر سے ملک کے دیگر حصوں تک ریل کے ذریعے سفر کا خواب اب جلدی ہی پورا ہونے والا ہے کیوں کہ اگلے چند دنوں میں ریاسی سے سرینگر ریل جلد چلے گی ۔ ذرائع نے بتایا کہ سرینگر بارہمولہ اور ریاستی کے بیچ اگلے دس دنوں میں ریل سروس شروع ہونے جارہی ہے جبکہ سرینگر اودھمپور کے درمیان ریل لنک میں صرف 15کلو میٹر کا فاصلہ رہ گیا ہے جو کو ابھی پورا کرنا باقی ہے اور اندازہ لگایا جارہا ہے کہ 15اگست تک یہ مکمل ہوگا اور یوم آزادی کے دن اس کو قوم کے نام وقف کیا جائے گا ۔ 1995مارچ میں سرینگر ، بارہمولہ ، اودھپور ، جموں ریل پروجیکٹ کو منظور دی گئی تھی اُس وقت پروجیکٹ کیلئے لاگت کا تخمینہ 2500کروڑ تھا اور اس کو مکمل کرنے کیلئے 2002کو حتمی تاریخ مکمل کیا گیا تھا ۔ تاہم پروجیکٹ کو دو ہزار دو تک بھی مکمل نہیں کیا گیا تھا۔اس ضمن میں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سرینگر بارہمولہ ، اودھمپور ریل لنک کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے قومی پروجیکٹ قراردیتے ہوئے متعلقہ ایجنسیوں کو پروجیکٹ 2007تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔ اور اٹل بہاری واجپائی نے اُس وقت خواہش ظاہر کی تھی کہ اس پروجیکٹ سے کشمیری لوگ ملک کی دوسری ریاستوں سے بذریعہ ریل رابطہ رکھ سکیں گے جس کے نتیجے میں وادی کی اقتصادی حالت میں بہتری آئے گی اور کاروبار کے علاوہ سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔ مرکزی وزارت برائے پراگرام امپلمنٹیشن کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پروجیکٹ پر کام سست رفتاری سے جاری ہونے کی وجہ سے مرکزی خزانہ کو سالانہ کروڑوں روپے کا اضافہ بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پروجیکٹ کو ملک کے بڑے سے برے پروجیکٹوں سے زیادہ وقت لگ چکا ہے جوکہ متعلقہ ایجنسیوں کی نااہلیت اور غفلت شعاری کا ثبوت پیش کرتا ہے ۔ تاہم اب اس پروجیکٹ کا قریب قریب 95فیصدی کام مکمل ہوچکا ہے ۔ اور اگلے دس دنوں تک ریاسی اور سرینگر کے بیچ ریل خدمات چالو ہوں گی ۔










