پاکستان کے ساتھ لگنی والی بین الاقوامی سرحد پر ڈرون کی بڑھتی سرگرمیاں

سال رواں کے دوران مختلف مقامات پر 100سے زائد پاکستانی ڈرون مار گرائے گئے

سرینگر // سرحدوں پر ڈرون کی بڑھتی سرگرمیوں کے بیچ سرحدی حفاظتی فورس ( بی ایس ایف ) نے دعویٰ کیا ہے کہ سال رواں کے دوران مختلف مقامات پر 100سے زائد پاکستانی ڈرون مار گرائے گئے اور اس دوران بھاری مقدار میں منشیات اور اسلحہ بر آمد کر لیا گیا ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق جموں میں پاکستان کے ساتھ لگنی والی سرحدوں پر ڈورن سرگرمیوں میں کافی اضافہ ہو گیا ہے اور آئے روز بین اقوامی سرحد پر پاکستانی ڈرون نظر آ رہے ہیں ۔ اسی دوران بی ایس ایف نے انکشاف کیا ہے کہ سال رواں کے دوران جموں میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر 100سے زائد پاکستانی ڈرون مارے گر آئے گئے ۔ بی ایس ایف نے بتایا کہ سال رواں کے دوران 100 پاکستانی ڈرون کامیابی سے مار گرایا ہے یا برآمد کیا ہے، جن کے ذریعے منشیات، اسلحہ اور گولہ بارود ہندوستانی علاقے میں اسمگل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔بی ایس ایف نے کہا کہ اس نے بھارتی سرزمین میں منشیات اور دیگر نشہ آور اشیاء کی نقل و حرکت کو روکنے کیلئے ’’تین جہتی حکمت عملی’ وضع ‘‘کی ہے۔فورسز نے مزید کہا کہ انہوں نے اسمگلروں کو کامیابی سے پکڑا، جو ڈرون کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ میں سہولیات فراہم کر رہے تھے۔ایکس پر پوسٹس کی ایک سیریز میں، بی ایس ایف پنجاب فرنٹیئر نے کہا’’اب تک، 2023 میں، بی ایس ایف پنجاب نے 100 پاکستانی ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا یا برآمد کیا جو ملک دشمن عناصر کی جانب سے منشیات، اسلحہ اور گولہ بارود کو ہندوستانی علاقے میں سمگل کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا‘‘۔ بی ایس ایف نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا’’ڈرون، منشیات اور اسلحہ برآمد کرنے کے علاوہ، بی ایس ایف نے اسمگلروں کو بھی کامیابی سے پکڑا ہے جو ڈرون کے ذریعے اسمگلنگ میں سہولت فراہم کر رہے تھے‘‘۔ بی ایس ایف نے ایک تین جہتی حکمت عملی کو نافذ کیا ہے، جس کا مقصد منشیات کی سپلائی کو کم کرنا، منشیات کے استعمال کے خلاف بیداری کو فروغ دینا، اور نوجوانوں کو اپنی توانائی کو استعمال کرنے کیلئے ہنر سے بااختیار بنانا، اس طرح روزگار کے بامعنی مواقع فراہم کرنا ہے۔دریں اثنا، بی ایس ایف نے پیر کو امرتسر میں ڈرون کے ذریعے اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنایا اور چپکنے والی ٹیپ سے لپٹی 434 گرام ہیروئن ضبط کی۔