5 بلاک ڈیولپمنٹ افسران ، اے آر ٹی او اور 9محکمے اکاؤنٹس اور اسسٹنٹ اکاؤنٹس افسران کی کرسیاں خالی
سری نگر//شوپیان ضلع میں درجنوں سرکاری دفاتر میں افسران کی کمی کے باعث کام کاج بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں جبکہ سرکاری اسکولوں میں ہیڈماسٹروں کی عدم دستیابی اور زونل ایجوکیشن دفاتر میں زونل ایجوکیشن آفسران کی کمی کی وجہ سے نہ صرف سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نظام متاثر ہورہا ہے بلکہ ہزاروں اسکولی بچوں کا مستقبل مخدوش بن کے رہ گیا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق اگرچہ سرکاری سطح پر بار بار اس بات کو اجاگر کیا جاتا ہے کہ گوڈ گورننس اور لوگوں کو ان کی دہلیز پر مسائل حل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاہم شوپیان ضلع میں صورتحال بالکل اس کے برعکس دیکھنے کو مل رہی ہے اور سرکاری دعوے اس لحاظ سے سراپ ثابت ہورہے ہیں کیونکہ ضلع میں قائم 45کے قریب محکمے سربراہان کے بغیر ہی کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان دفاتر میں نہ صرف کام کاج بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے بلکہ صارفین کو شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔شوپیان ضلع میں اگر دیہی ترقی محکمے پر نظر ڈالی جائے تو یہ محکمہ لگ بھگ مفلوج بن کے رہ گیا کیونکہ 9 بلاکوں میں سے پانچ بلاک جن میں رام نگری، کاپرین ،کانجیولر اور چتراگام وغیرہ شامل ہے بلاک ڈیولپمنٹ افسران کے بغیر ہی ہیں اور حیرت کا مقام یہ ہے کہ بی ڈی او شوپیان کو 4 بلاکوں کا اضافی چارج دیا گیا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان دفاتر میں مرکزی اور یوٹی لیول کی اسکیموں کی عمل اوری کس طرح ممکن ہو پارہی ہے اور لوگوں کو کس طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اسی سلسلے میں کیلر تحصیل سے ائے ہوئے ایک عوامی وفد نے کے این ایس کو بتایا کہ ان کے علاقے میں متعدد سرکاری سکیموں میں مبینہ طور بیضابگیاں کی گئی ہیں اور مستحق افراد کو مکمل طور نظر انداز کیا گیا۔اس دوران ضلع ہیڈ کوارٹر پر قائم اے آر ٹی او افس کا اضافی چارج بی ڈی او زینہ پورہ اور چتراگرام کو دیا گیا ہے حالانکہ ٹرانسپورٹروں کی ایک بڑی تعداد اس افس سے وابستہ ہے مگر اس معاملے کو نظر انداز کیا گیا۔ ادھر شوپیان ضلع میں ایجوکیشن محکمہ سب سے زیادہ متاثر ہے اور اگرچہ محکم تعلیم کے افسران یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کو اعلی اور معیاری تعلیم سے اراستہ کرنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاہم محکمہ ایجوکیشن کے قریبی ذرائع سے کے این ایس کو معلوم ہوا ہے کہ27 کے قریب بائز اور گرلز ہائی سکول ہیڈماسٹروں کے بغیر ہی کام کر رہے ہیں اور اس وجہ سے ان سکولوں میں تعلیمی نظام بری طرح سے متاثر ہوا ہے جبکہ بٹہ پورہ میں قائم ڈسٹرکٹ انسٹیٹیوٹ اف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ گزشتہ پانچ مہینوں سے پرنسپل کے بغیر ہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ زونل ایجوکیشن آفس وہل ، شوپیان اور کیگام لمبے عرصے سے زونل ایجوکیشن آفسران کے بغیر ہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف سرکاری پالیسیوں کی عمل آوری میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہے بلکہ مذکورہ دفاتر کے زیر کنٹرول سرکاری سکولوں میں کام کاج بھی ٹھپ ہو کے رہ گیا ہے۔ محکمہ ایجوکیشن کے قریبی ذرائع نے مزید بتایا کہ ضلع میں پہلے ہی تعلیمی نظام بری طرح سے متاثر تھا لیکن حالیہ اے ٹی ڈی کے نام پر اساتذہ کے تبادلوں سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل مخدوش بن کے رہ گیا ہے اور چیف ایجوکیشن آفس اور متعلقہ محکمہ کے اعلی ترین افسران اس پورے معاملے پر پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔محکمہ ایجوکیشن سے وابستہ کئی اساتذہ نے بتایا کہ افسران کے لاپرواہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں 29 کے قریب ماسٹر گریڈ اساتذہ کو پلوامہ ٹرانسفر کیا گیا اور ابھی تک ان کے بدلے ایک بھی استاد کو شوپیان میں تعینات نہیں کیا گیا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے افسران ہزاروں سکولی بچوں کے مستقبل کے بارے میں کس طرح سنجیدہ اور فکر مند ہے۔ذرائع نے بتایا اب چیف ایجوکیشن آفس نے اساتذہ کی دوبارہ تعیناتی کا عمل شروع تو کیا لیکن اس میں اثر رسوخ رکھنے والے استادوں کو من پسند یا ان جگہوں پر جہاں پر وہ کئی برسوں سے تھے وہاں پر تعینات کرنے پر عمل پیرا ہے۔ادھر ضلع میں قائم ایس ایس پی آفس ،مونسپل کونسل ،ڈسٹرکٹ ٹریجریری ،ڈی ار ڈی اے اور فنڈ افس عرصہ دراز سے اکاؤنٹس افسران کے بغیر ہی کام کر رہے ہیں۔










