سری نگر//دودھ گنگا رینج کے جنگلاتی علاقوں میں، جہاں پہلے ہی مزدوروں کے بجائے بلڈوزر کا استعمال کرتے ہوئے پائپ لائنیں کھودی جا چکی ہیں، کے این ایس کو ملی تفصیلات کے مطابق یوسمرگ جنگل کے مرکزی علاقے جیسے ؛ شوما نارڈی کال ناگ و دیگر علاقوں سے کئی نئی پائپ لائنز کھودی جا رہی ہے، جس میں بلڈوزر کا باقاعدگی سے استعمال کیا جا رہا ہے. اگرچہ جل جیون مشن کے تحت لوگوں کو پانی فراہم کرنے کے لیے جنگل کی زمین سے پائپ لائن لی جاسکتی ہے ، لیکن اس کے لیے بلڈوزر کے بجائے مزدوروں کا استعمال کیا جانا چاہیے تھا ، جس سے سبز سونا بہرحال بچایا جاسکتا تھا تاہم محکمہ جنگلات کے افسران کی غفلت شعاری کے باعث جنگلی علاقوں میں بلڈوزر کو کھلی اجازت دے دی گئی ہے جو قابل تشویش بھی ہے۔حالانکہ جنگلات کے علاقوں میں ٹھکیدار حضرات مزدوروں کا استمال بھی کرسکتے تھے تاہم وہ وقت اور رقم بچانے کے چکر میں سبز سونے کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں اور مزدوروں والا کام یہاں کم ہی دیکھنے میں آتا ہے اور جب جنگلات کی زمین پر بلڈوزر کا استعمال کیا جاتا ہے تو بہت سے درختوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے، خاص کر جوان درختوں کو،اگر یہاں جنگل کے علاقے میں بلڈوزر کے بجائے مزدور لگائے گیے ہوتے اس سے جہاں ایک طرف یہاں کے مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے وسائل پیدا ہوتے وہی جنگل کو بھی نقصان سے بچایا جا سکتا تاہم جب ہم نے اس حوالے ڈی ایف او بڈگام محمد اشرف کٹو سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہمارا فون اٹھانا گوارہ نہیں سمجھا ایل جی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے سنجیدہ نوٹس لے تاکہ سبز سونے کو بچایا جاسکے
جے پور میں نیٹ۔پی جی امتحان کے دوران بجلی گل ہوگئی
کردار سازی کے بغیر صرف ڈگری والی تعلیم کی کوئی قدر نہیں: راج ناتھ سنگھ
’بھارت میں کوئی مسلمان نہ ہو‘ سوچنے والا ہندو نہیں رہے گا/ موہن بھاگوت
ریاستی درجہ واپس آئے گا، دفعہ 370 نہیں
پہلی بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی تیاریوں کا جائزہ
آمدنی کا خسارہ، رابطہ سڑکیں اور روزگار لداخ کی ترقی میں اہم چیلنجز
جموں و کشمیر میں آئندہ چند روز بارش اور گرج چمک کا امکان
ڈیجیٹل گرفتاری جیسے نئے فراڈ کے خلاف عدلیہ نے فعال کردار ادا کیا/ چیف جسٹس
لفٹینٹ گورنر نے شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ کے فاؤنڈیشن ڈے اور
جاوید ڈار نے لاڈورا میں زیارت حضرت نظام الدین ؒ کی باڑ بندی اور خوبصورتی کے کام کا سنگِ بنیاد رکھا










