کئی علاقوں میں میوہ باغات،شالی کوشدید نقصان،اخروٹ کی پیداوار میں کمی
سری نگر//وادی کشمیر میں جون جولائی تک شدید بارشوں کے بعد موسم مسلسل خشک رہنے کے نتیجے میں امسال وادی کشمیر کے بیشتر علاقوں میںفصلوں اور میوہ باغات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جس کے نتیجے میں کسان مایوسی کے شکار ہوئے ۔کسانوں نے بتایا بیشتر دہی علاقوں میں مکی کافصل اور چند مقامات پر شالی اورسیب کے درخت بھی بلاسٹ بیماری کے لپیٹ میں آئے ہیں ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق وادی کشمیر میںسال رواں کے جون اور جولائی تک شدید بارشوں کے بعدموسم تقریباً مسلسل طور خشک رہا ہے جس کے نتیجے میں جہاں مختلف فصلوں اور میوہ جات کے پیداوار میں کمی واقعہ ہوئی وہی دوسری جانب اب اس وجہ سے میوہ جات اور باقی فصل تیار ہونے سے قبل ہی خراب ہوئے ۔جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ایک دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک میوہ باغ مالک نے بتایا ان کے باغ میں امسال سیبوں کے پیداوار میںکافی اضافہ ہوا ہے تاہم تا حال بارش نہ ہونے کی وجہ سے سیبوں پر رنگ نہیں آیا ہے جبکہ خشک سالی کی وجہ سے درختوں کے پتے گرنے لگے اور باغات موسم سرما کا منظر پیش کرنے لگے ہیں انہوں نے بتایا سال بھر انہوں دروائیوں پر زر کثیر خرچ کی ہے لیکن اب انہیں امید تھی انہیںبہتر انداز میں فصل سے آمدنی حاصل ہوگی ۔انہوں نے بتایا تاہم آخر پر انہیں بڑے نقصان سے دو چار ہونا پڑاجس کی وجہ سے اب لوگ میوہ صنعت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔نذیر احمد نامی ایک شہری نے بتایا انہیں کافی سالوں کے بعد مکی کی بہتر فصل تھی تاہم آخر پر یہ فصل بھی بلاسٹ بیماری کے لپیٹ میں آیا ہے جہاں مکی تیار ہونے سے قبل سوختہ ہو کرگر رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ساری صورتحا ل سے کسانوں کو پریشانی ہوئی ۔چند باغ مالکان نے بتایا اگر اب بھی بارش ہوتی تو انہیں زیادہ نقصان سے دو چار نہیں ہونا پڑتا ۔انہوں نے بتایا چند علاقوں پانی کی سہولیات موجود ہے جس سے باغات کی سنچائی کی جا سکتی ہے لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پانی مت ڈالوں کچھ لوگ کہتے ہیں سنچائی اس موسم میں مفید اور کسان اس حوالے سے بھی پریشان ہیں ۔ادھر جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اخروٹ کی پیداوار بھی کافی زیادہ ہوتا ہے جہاں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں 70فیصد سے زیادہ لوگوں کے پاس اخروٹ کے درخت ہے ۔باقی فصلوں کے ساتھ ساتھ سال میں کئی بار شدید قسم کی ژالہ باری کی وجہ سے اخروٹ کی پیداوار میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے ۔لوگوں نے بتایا 80فیصد سے زیادہ نقصان اخروٹ کے کام کاج سے منسلک لوگوں کا کرنا پڑا ۔لوگوں نے بتایا اس موسم میںاخروٹ درختوں سے خود گرتے تھے تاہم اب کی بار بلکل ایسا نہیں ہے۔انہوں نے بتایا اس وجہ سے بھی لوگوں کو نقصان سے دو چار ہونا پڑا ہے ۔کچھ کسان سال رواں کے ابتدائی مہینوں کی شدید بارشوں اور کچھ لوگ ژالہ باری اور اکثریت کا ماننا ہے کہ اگست کے بعد بہتر بارشیں نہ ہونے کے وجہ سے کسانوں کو اس طرح کے نقصان سے دو چار ہونا پڑا۔










