جموںوکشمیر نے موجودہ مالی برس کے دوران 1,447.06 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں
سری نگر//ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ جل شکتی شالین کابرا نے آج جموںوکشمیر میں جل جیون مشن کے آغاز سے لے کر اَب تک اِس پر عمل آوری کا جائزہ پیش کیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے آج یہا ںڈی آئی پی آر آڈیٹوریم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی دیگر تمام ریاستوں اور یوٹیز کی طرح جل جیون مشن بھی مرکزی حکومت کا ایک فلیگ شپ پروگرام جموںوکشمیر یوٹی میں عملایا جارہا ہے جس کا مقصد ہر دیہی گھرانے کو فنکشنل ہائوس ہولڈ ٹیپ کنکشن ( ایف ایچ ٹی سی ) سے جوڑنا ہے۔مشن ڈائریکٹر جل جیون مشن ڈاکٹر جی این ایتو ۔ ڈائریکٹر انفارمیشن منگا شیرپا اور چیف اِنجینئر جل شکتی کشمیر بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے کہا کہ یہ پروگرام کم از کم 55 لیٹر فی شخص فی کس یومیہ سروس لیول پر فراہم کرنے اور بی آئی ایس 10,500 سٹینڈرڈز کے مطابق باقاعدگی سے طویل مدتی اور دیرپا بنیادوں پر پینے کا پانی فراہم کرنے کے قابل ہوگا۔جموںوکشمیر یوٹی میں تقریباً1.10 کروڑ دیہی آبادی کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے 18.67لاکھ دیہی گھروں کے نئے اور موجودہ نل کے پانی کنکشن فراہم کرنے کے لئے تقریباً 13,000 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے 3,244 واٹر سپلائی سکیموں ( سکولوں ، آنگن واڑی مراکز ، صحت اِداروں اور گرام پنچایتوں کے لئے الگ الگ سکیموں سمیت)کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے مزید جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ یہ واٹر سپلائی سکیمیں تقریباً6,600 اجزأ پر مشتمل ہیں جیسے بورویلوں ، ٹیوب ویل او رکھودے ہوئے کنوئوں کے علاوہ ریپڈ سینڈ فلٹریشن پلانٹس ، اوور ہیڈ ٹینک ، سلو سینڈ فلٹریشن پلانٹس ، گرائونڈ سروس ریز روائرز اور پائپ بچھانے کے کام شامل ہیں جن کا مقصد پانی کی فراہمی کے موجودہ نظام کو بڑھانا اور غیر محفوظ علاقوں میں نل کے پانی کے نئے کنکشن فراہم کرنا ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ آج تک تقریباً 97 فیصد اہم کام کے اجزأ دیئے گئے ہیں، یہ سب شفاف ای ۔ٹینڈرنگ سسٹم کے ذریعے دئیے گئے ہیں جس میں تقریباً 1,700 ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ جون2022 ء میں 14 فیصد کے مقابلے میں ہے۔ اسی طرح جون 2023 ء میںکام کا آغاز 6 فیصد سے بڑھ کر اَب تک 73 فیصد پہنچ گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پورے جموںوکشمیر یوٹی میں اِس مشن پر عمل آوری تیزی سے جاری ہے۔اُنہوں نے کہا کہ کسی بھی الاٹمنٹ کے حوالے سے قطعی طور پر کوئی تعمیل نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ چوں کہ بنیادی ڈھانچہ اَگلے 30برسوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بنایا جارہا ہے اور اِس میں ایک وسیع پائپ ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک بچھانے سمیت بہت زیادہ کام شامل ہے ۔ اِس لئے پائپ میٹریل کی ضرورت بھی اتنی ہی زیادہ ہے جس کے لئے بروقت دستیابی ضروری ہے ۔ جی ایف آر 2017 اور سامان کی خریداری کے مینوئل 2017 ء میں منصفانہ ، جواب دہی اور خریداری کے عمل کی شفافیت پر سمجھوتہ کئے بغیر مشن کی عمل آوری میں تاخیر سے بچنے کو یقینی بنایا۔شالین کابرا نے مالی اختیارات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جی ایف آر 2017ء، مینوئل فار پروکیورمنٹ آف گڈز 2017 اور15ایس او مورِّخہ 9؍ جنوری 2020ء کی سختی سے تعمیل کرتے ہوئے ککنٹریکٹ دینے او رمنظوری کے لئے مالی اختیارات تفویض کرنے کے لئے یوٹی آف ایم کے ڈیولپمنٹ کمشنرورکس کی سربراہی میں یوٹی سطح کی خریداری کمیٹی کے ذریعے اور فائنانس ، ایل اینڈ سی ، ایم اِی ڈی وغیرہ جیسے محکموں کے ممبران کے ساتھ مکمل اِی۔ٹینڈرنگ اور جانچ پڑتال سے آج تک کل پائپ کی ضرورت کا 60فیصد خریدنے میں کامیاب رہا ہے جوجون 2022ء میں 5فیصد سے کم تھی ۔اُنہوں نے مزید کہاکہ واٹر کوالٹی مانیٹرنگ اینڈ سرویلنس کے تحت جل جیون مشن کا ایک جزو جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سپلائی کئے جانے والے پانی کا معیار بی آئی ایس 10,500 کے معیار کے مطابق ہو تاکہ دیہی علاقوں بالخصوص بچوں اور خواتین میں صحت صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے کہاکہ جموںوکشمیر یوٹی میں 98 واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں اور ان میں سے 11 کو این اے بی ایل نے پانی کے نمونوں کی جانچ کے لئے منظوری دی ہے جس کی رِپورٹ ڈبلیو کیو ایم آئی ایس پورٹل پر دستیاب ہے جو عوامی ڈومین میں ہے۔اُنہوں نے پانی کے معیار کی نگرانی میں کمیونٹیوں کو شامل کرنے کے لئے بتایا کہ انہیں پانی سمیتی کے اراکین کو فیلڈ ٹیسٹنگ کٹس دستیاب کی گئی ہیں۔ اب تک 7200 ایف ٹی کٹس تقسیم کئے جا چکے ہیں اور 32,000 خواتین کو ان ایف ٹی کٹس کے استعمال کے کئے تربیت دی گئی ہے۔اِس کے علاوہ اُنہوں نے کہا کہ دیہاتوں میں جل جیون مشن کی منصوبہ بندی نگرانی اور اس کی عمل آوری میں کمیونٹیوں کو شامل کرنے کے لئے جموںوکشمیر یوٹی کے تمام دیہاتوں میں پانی سمیتیاں تشکیل دی گئی ہیں جو گائوں کی سطح پر کاموں کی نگرانی اور ان سکیموں کی تکمیل میں شامل ہیں ۔جن گائوں میں صد فیصد ایف ایچ ٹی سی فراہم کئے گئے ہیں ا ن کی ہر گھرجل سرٹیفکیشن کے علاوہ جے کے ایم کاموں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کے سلسلے میں پانی سمیتوں ، خصوصی گرام سبھائی ، جن سبھائوں کی تقریباً23,000 میٹنگیں منعقد کی گئیں ہیں ۔ مشن کے آغاز کے بعد سے اب تک 3088 کروڑروپے خرچ کئے جاچکے ہیںجس میں سے گزشتہ 12 مہینوں کے دوران 2600 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے بتایا کہ رواں مالی برس کے دوران جموںوکشمیر یوٹی نے 1447.06کروڑ روپے خرچ کئے ہیں اور مرکزی حکومت سے 1433.56 کروڑ روپے کے فنڈز کی دو قسطیں اُٹھانے میں کامیاب رہا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے جموں و کشمیریوٹی میں جل جیون مشن کی عمل آوری کے سلسلے میں کچھ غلط معلومات کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے ۔جی آئی پائپوں کے معاملے میں خریداری مینوئل فار پروکیورمنٹ آف گڈز 2017 ء کی شقوں کے تحت کی گئی ہے جب کہ اس سلسلے میں جاری کئے گئے تازہ ٹینڈر میں بولی دہندگان کی جانب سے زیادہ نرخوں کا حوالہ دیا گیا تھا اور نئے ٹینڈرنگ کے عمل کے لئے درکار وقت کی بچت کی گئی تھی۔ سی اِی پی ایچ اِی کشمیر نے عمل میں موجودہ ریٹ کنٹریکٹ کو یو ٹی لیول پرچیز کمیٹی کی منظوری اورچھٹی ایپکس کمیٹی میٹنگ کے فیصلے کے بعد سامان کی خریداری کے دستورالعمل کے تحت چلایا ہے ۔جی آئی پائپوں کی بروقت دستیابی کے علاوہ تقریبا 72 کروڑ روپے کی بچت کا تخمینہ ہے۔










