سری نگر//سیکرٹری ریونیو ڈاکٹر پیوش سنگلا نے آج جموںوکشمیر لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ ایجنسی ، جموںوکشمیر اِی ۔ گورننس ایجنسی ، آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ اور نیشنل اِنفارمیٹکس سینٹر نمائندوں کے ساتھ ایک تفصیلی جائزہ میٹنگ منعقد کی ۔ڈاکٹر پیوش سنگلا نے ریو نیو خدمات کے لئے آسان اور بغیر پریشانی خدمات کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیاجو آن لائن خدمات کے بعد بہت زیادہ مطلوب ہے۔اُنہوں نے بروقت خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے تکنیکی مسائل مناسب وقت میں حل کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ اعلیٰ سطح پر خدمات کی فراہمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مقررہ مدت کے اَندر مؤثر خدمات فراہم کرنے کے لئے پُر عزم ہے ۔ ڈاکٹر پیوش سنگلا نے اِس مقصد کے حصول میں تکنیکی شعبوں کو مکمل تعاون کا یقین دِلایا۔جائزمیٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ ایگری کلچر سر ٹیفکیٹ اور ایلینیشن آف لینڈ سر ٹیفکیٹ جیسی خدمات تیار کی گئی ہیں اور فی الحال ان کی جانچ کی جا رہی ہے ۔توقع ہے کہ یہ خدمات اِس ماہ کے آخیرتک شروع کی جائیں گی۔ اِس کے علاوہ جنرل کاسٹ سر ٹیفکیٹ اور غیر شادہ شدہ سر ٹیفکیٹ جیسی خدمات شامل کی گئی ہیں۔تمام خدمات کو ڈیجی لاگر کے ساتھ منسلک کرنے کا عمل فی الحال ترجیح کے طور پر جاری ہے۔ لینڈ یوز سروس کی تبدیلی جو پہلے سے ریونیو پلس پر دستیاب ہے ،میں سی ایل یو اِجازت کی آن لائن فراہمی کا اِضافی فیچر ہوگا۔اِس سے درخواست دہندگان کو اِجازت لینے کے لئے سرکاری دفاتر کا دورہ کرنے کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔ آفات سماوی کے متاثرین کو بروقت اِمدادی اِمداد فراہم کرنے کا مقصد سے ریو نیو پلس کے ساتھ اِنضمام کے لئے نیچرل کلائمٹیزریلیف اسسٹنس سروس کی پیش رفت بھی جاری ہے۔ڈاکٹر پیوش سنگلا نے ہدایات جاری کیں کہ محکمہ ریونیو کے تمام پورٹلوں میں سکرین ریڈر جیسے ٹولز ، رنگین تھیمز کے مختلف اِختیارات بالخصوص جسمانی طور خاص اَفراد تک رَسائی کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے۔اِس جائزہ میٹنگ میں مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا جس میں جنسوگم اور ریونیو پلس پورٹل پر ڈیٹا مینجمنٹ اور رپورٹنگ، ڈومیسائل پورٹل کے کام کاج، جاری کردہ دستاویزات کی توثیق کے لئے ڈیجیٹل دستخط کو اَپنانا اور این ای ایس ڈی اے کی تعمیل شامل ہے۔میٹنگ میں سپیشل سیکرٹری ریونیو شہباز احمد مرزا، اسسٹنٹ کمشنرسروے اینڈ لینڈ ریکارڈ ناصر علی ، ڈپٹی سیکرٹری آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ رچنا شرما، جے اے کے ایل اے آر ایم اے ، این آئی سی اور جے اے کے اِی جی اے کے نمائندوں نے شرکت کی۔










