راجور ی کے کنڈی جنگلات میں تصادم آرائی کے بعد تلاشی آپریشن پانچویں روز بھی جاری

ملی ٹنٹوں کی جانب سے جنگلات میں موجود گھپائوں کے استعمال کو روکنے کیلئے بھی اقدامات اٹھائیں گئے

سرینگر ///راجور ی کے کنڈی جنگلات میں مسلح تصادم آرائی میں پانچ فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد تلاشی آپریشن بڑے پیمانے پر جاری ہے جبکہ پونچھ تاچھ کیلئے ابھی تک نصف درجن مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ ادھر ملی ٹنٹوں کی جانب سے جنگلات میں موجود گھپائوں کے استعمال کو روکنے کیلئے بھی اقدامات اٹھائیں گئے ہیںاور اس طرح کی گھپائوںکی نشاندہی کرکے ان کو تباہ کرنے کا کام بھی شروع کیا گیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق راجوری کے کنڈی جنگلات میں طویل تلاشی آپریشن کے بعد مسلح تصادم آرائی میںپانچ فوجی اہلکاروں اور ایک ملی ٹنٹ کی ہلاکت کے بعد جنگلات میں وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری ہے ۔ وہیں تقریباً نصف درجن مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے ملی ٹنٹوں کی نقل و حرکت کے بارے میںپوچھ تاچھ کی جا رہی ہے ۔ تفتیشی ایجنسیوں کا خیال تھا کہ عسکریت پسندوں کی نشاندہی کرکے انہیں ہلاک کرنے کا راستہ مشتبہ افراد کے ذریعے نکل سکتا ہے جو راجوری اور پونچھ اضلاع کے جنگلاتی علاقوں میں ان کے ذریعہ تیار کردہ ٹھکانوں سے واقف ہوسکتے ہیں۔حراست میں لیے گئے مشتبہ افراد سے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت اور خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں تفصیلات معلوم کرنے کے لیے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے جسے وہ جنگلوں میں استعمال کر سکتے تھے، ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز ممکنہ طور پر جنگلوں میں موجود ملی ٹنٹوں کی جانب سے پناہ لینے کیلئے تیار کردہ گھپائوں کو تباہ کر دیں گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عسکریت پسند کسی بھی قسم کی کارروائیوں میں کامیاب نہ ہو سکیں اور نہ ہی وہ مستقبل میں وہاں پناہ لیں۔ دریں اثنا، راجوری ضلع کے کنڈی اور آس پاس کے جنگلات میں فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس کی طرف سے عسکریت پسندوں کی تلاشی مہم پانچویں دن میں داخل ہوگئی۔ہیلی کاپٹر، ڈرون اور پیرا کمانڈوز کے ذریعے جنگلات کی جانچ کی جا رہی ہے۔