جل شکتی ابھیان: مرکزی جوائنٹ سیکرٹری اور مرکزی نوڈل آفیسر نے جائزہ میٹنگ کی صدارت کی

بانڈی پورہ//مرکزی جوائنٹ سیکرٹری اور مرکزی نوڈل آفیسر برائے ڈسٹرابیوشن امیتابھ رنجن نے آج بذریعہ ورچیول موڈ ضلع بانڈی پورہ میں جل شکتی ابھیان سے متعلق ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی تاکہ پورے ضلع میں اِس پروگرام کے اثرات اور پیش رفت تک رَسائی حاصل کی جاسکے۔ میٹنگ میں ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس احمد ، اے ڈی ڈی سی بانڈی پورہ علی اَفسرخان، مختلف شراکت داروں بشمول سرکاری اَفسران ، اِنجینئروں اور غیر سرکاری آرگنائزیشنوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر ڈاکٹر اویس احمدنے جانکاری دی کہ ضلع بانڈی پورہ میں امرت سروور کے تحت 133 مقامات کی نشاند ہی کی گئی تھی۔اِن میں سے 59 پر کام کو عمل میں لیا گیا ہے جن میں 49 مکمل ہوچکے ہیں۔اُنہوں نے بتایا کہ بانڈی پورہ میں 73 ،سوناواری میں 58اور گریز میں 2مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔جل شکتی ابھیان مرکزی حکومت کا ایک اہم پروگرام ہے جس کا مقصد ملک میں پانی کی حفاظت اور پانی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے ۔اِس پروگرام کا مقصد پانی کے تحفظ کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ، پانی ذخیرہ اندوزی کو فروغ دینا اور پانی ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔جائزہ میٹنگ میں ضلع بانڈی پورہ میں جل شکتی ابھیان کی پیش رفت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ میٹنگ کا مقصد زمینی سطح پر پروگرام کے اَثرات کا جائزہ لینا اور کسی بھی چیلنج یا مسائل کی نشاندہی کرنا تھا جن کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔دورانِ میٹنگ ضلع ترقیاتی کمشنر نے پروگرام کی پیش رفت کے بارے میں ایک تفصیلی رِپورٹ پیش کی جس میں تعمیرشدہ پانی کے تحفظ کے ڈھانچے کی تعداد ، پانی کٹائی کی مقدار اور ایسے گھرانوں کی تعداد جن کو پینے کے صاف پانی تک رَسائی فراہم کی گئی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ زیادہ تر مقامات پر جیوٹیگنگ پہلے ہی مکمل ہوچکی ہے اور آبی ذخائر کے اِرد گرد تجاوزات کی مہم کامیاب رہی ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے بتایا کہ ضلع بھر کے نوجوانوں کو مختلف کھیل سرگرمیوں کے ذریعے شامل کیا گیا جس میں مصوری مقابلے ، فٹ بال میچوں اور کرکٹ میچ وغیرہ شامل ہیں۔امیتابھ رنجن نے ضلع میں جل شکتی ابھیان کو عملانے میں ضلع اِنتظامیہ اور شراکت داروں کی کوششوں کی تعریف کی ۔ اُنہوں نے پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔میٹنگ میں پروگرام کو درپیش چیلنجوں جیسے مناسب اِنفراسٹرکچر کی کمی اور عوام میں پانی کے تحفظ کو فروغ دینے کے لئے مزید بیداری مہم چلانے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔اِس موقعہ پر متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ پروگرام پر عمل در آمد کے دوران درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات کریں اور پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنائیں ۔ اُنہوں نے شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ ضلع میں پانی کے تحفظ اور پانی کی حفاظت کے مشترکہ مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مل کر کام کریں۔امیتابھ رنجن نے ضلع اِنتظامیہ کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ یہ میٹنگ ضلع میں پروگرام کے مقاصد کو حاصل کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ میٹنگ نے شراکت داروں کو اَپنے تجربات کا اشتراک کرنے ، چیلنجوں کی نشاندہی کرنے اور ضلع میں پانی کے تحفظ اور پانی کی حفاظت کے مشترکہ مقصد کے لئے کام کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔