سرینگر//منصوبہ بندی ، ترقی اور مانیٹرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری ڈاکٹر راگھو لینگر نے سمردھ سیما یوجنا ( ایس ایس وائی ) کے تحت سالانہ ایکشن پلان ( اے اے پی ) 2023-24 کی تیاری پر پیش رفت کا جائیزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ کی صدارت کی ۔ سیکرٹری نے 2022-23 کے دوران ایس ایس وائی کے تحت کی گئی فزیکل اور مالیاتی پیش رفت کا تفصیلی جائیزہ لیا ۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ کُل ریلیز 42.44 کروڑ روپے میں سے 29.10 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں جبکہ 2022-23 کے دوران ایس ایس وائی کے تحت 478 کاموں میں سے 380 کام مکمل کئے گئے ۔ سیکرٹری موصوف نے جموں /سانبہ /کٹھوعہ /راجوری /پونچھ /بارہمولہ /کپواڑہ اور بانڈی پورہ اضلاع کے 8 سرحدی اضلاع کے ضلع ترقیاتی کمشنروں اور متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ کنور جنس کے ذریعے سرحدی بستیوں میں بنیادی ڈھانچے کے خلاء کو دور کرنے کی اسکیم کو نافذ کریں ۔ ڈائریکٹر جنرل بی اے ڈی پی اور متعلقہ اضلاع کے چیف پلاننگ آفیسرز نے اجلاس میں شرکت کی ۔ افسران سے خطاب کرتے ہیوئے سیکرٹری موصوف نے ان پر زور دیا کہ وہ 2022-23 کے تمام جاری کاموں کو پہلی ترجیح دیں جبکہ اس اسکیم کے تحت سالانہ ایکشن پلان ( اے اے پی ) 2023-24 مرتب کریں جسے موجودہ مالی سال میں ڈسٹرکٹ کیپیکس بجٹ کے تحت رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے افسران سے کہا کہ وہ سرحدی سیاحت کو فروغ دینے ، سرحدی گھروں میں قیام ، گیسٹ ہاؤسز ، سیاحت سے متعلق بنیادی ڈھانچہ ، ہنر مندی کی تربیت اور صلاحیت کی تعمیر /ذریعہ معاش پیدا کرنے کے پروگرام ، زراعت /باغبانی اور اس سے منسلک سرگرمیاں ( فارم میکینائزیشن /فارم مشینری کی خدمات حاصل کرنے کے مراکز /مشترکہ کاموں کو شامل کریں ۔ ایس ایس وائی کا آغاز مالی سال 2022-23 میں مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر میں ایک خصوصی پہل کے طور پر کیا گیا تھا جس میں لفٹینٹ گورنر کی قیادت اور چیف سیکرٹری کی رہنمائی میں سرحدی علاقوں کی جامع ترقی خاص طور پر سات موضوعاتی علاقوں میں سڑکیں اور عمارتوں کا بنیادی ڈھانچہ ، صحت کا بنیادی ڈھانچہ ، تعلیم کا بنیادی ڈھانچہ، زراعت ، بجلی کا بنیادی ڈھانچہ ، پینے کے پانی کی فراہمی ، سماجی شعبے اور کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہے ،کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے ۔










