ایچ اینڈ ایم جے اینڈ کے نے پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ کے موثر نفاذ پر ایک روزہ اورنٹیشن ورکشاپ کا انعقاد کیا

بچوں کی جنس کا تناسب کسی بھی معاشرے کی سماجی ترقی کیلئے اہم ۔ سیکرٹری صحت

سرینگر// نیشنل ہیلتھ مشن جموں و کشمیر نے پری کنسیپشن اور پری نیٹل ڈائیگنوسٹک ٹیکنیکس ( پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ) ایکٹ کے موثر نفاذ پر ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا ۔ سیکرٹری صحت اور طبی تعلیم بھوپندر کمار اس موقع پر مہمان خصوصی تھے ۔ اس موقع پر مشن ڈائریکٹر این ایچ ایم جے اینڈ کے ، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ، چیف میڈیکل آفیسرز ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس ، بلاک میڈیکل آفیسرز ، ریڈیولوجسٹ ، گائناکالوجسٹ اور اسٹیٹ ہیلتھ سوسائٹی ، این ایچ ایم ، جموں و کشمیر اور محکمہ صحت اور طبی تعلیم کے افسران اور بڑی تعداد میں میڈیکل افسران بھی موجود تھے ۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری نے پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ کے موثر نفاذ کی اہمیت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی جنس کا تناسب کسی بھی معاشرے کی سماجی ترقی کا ایک اہم اشارہ ہے اور جنس کے تناسب میں کسی بھی قسم کی کمی خطے کی آبادی کیلئے نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہے جو بالآخر بنی نوع انسان کے پورے نظام کو عدم توازن کا شکار بنا سکتی ہے ۔ بھوپندر کمار نے اس حقیقت پر بھی زور دیا کہ ہر سطح پر ریگولیٹری اداروں اور کمیٹیوں کی باقاعدہ میٹنگیں منعقد کی جانی چاہئیں اور باقاعدہ معائینہ کے علاوہ ہر سطح پر مناسب حکام کے ذریعہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے اچانک دورے کئے جانے چاہئیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذہبی رہنماؤں ، اسکولوں ، کالجوں اور پی آر آئی کو لڑکیوں کی جنین قتل اور اس کے نتائج کے بارے میں آگاہی پھیلانے کیلئے شامل ہونا چاہئیے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مشن ڈائریکٹر این ایچ ایم جے اینڈ کے نے بتایا کہ پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ کے تحت ایک مقررہ ریگولیٹری میکانزم قائم کیا گیا ہے اور تمام سطحوں پر ریگو لیٹری باڈیز /کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ۔