جموں وکشمیر ہر ضلع میں 94 کھیلو اِنڈیا مراکز اور اِنڈور سٹیدیموںمیں منفردہے۔ سرمد حفیظ
جموں//محکمہ اَمورِ نوجوان و کھیل کود نے جموںوکشمیر کے کنونشن سینٹر میں ایک روزہ ’’یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس کنکلیو۔2023ء‘‘ کا اِنعقاد کیاجس میں سیکرٹری امور ِ نوجوان وکھیل کود سرمد حفیظ مہمانِ خصوصی تھے۔اِس موقعہ پر سرمد حفیظ نے خطاب کرتے ہوئے جموںوکشمیر کی فینسنگ ، جمناسٹک ، رولر سکیٹنگ ، کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں باقاعدگی سے بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی تیار کرنے کی سراہنا کی۔ اُنہوں نے ایسے کامیابی حاصل کرنے والوں کو چھوٹے بچوں کے ساتھ بات چیت میں سہولیت فراہم کرنے پربھی زور دیا تاکہ کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔سرمد حفیظ نے ڈسٹرکٹ یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس اَفسران پر زور دیا کہ وہ نجی سکولوں سمیت تمام سکولوں میں استفساری سیشنوں کا اِنعقاد کریں تاکہ فروغ پذیر سپورٹس کلچر کو فروغ دیا جاسکے ۔اُنہوں نے اِس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے سکولوں میں سالانہ کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد جیسے اقدامات کی تجویز دی۔اُنہوں نے اَضلاع میں کھیلوں کو فروغ اور اِنعقاد کے لئے کی جانے والی سرگرمیوں کے حوالے سے ماہانہ پیش رفت رِپورٹ بھی طلب کی۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ بنیادی ڈھانچے بشمول جموںوکشمیر میں94 کھیلو اِنڈیا مراکز ، ہر ضلع میں کم از کم ایک اِنڈور سٹیڈیم اور ہر پنچایت میں ایک کھیل کا میدان سے لیس ہے۔اُنہوں نے حکومت کے ایس او۔ 12 کے بارے میں بیداری پیداکرنے پر زور دیا جس کے تحت جموںوکشمیر کے غیر معمولی کھلاڑیوں کے لئے 5گزیٹیڈ نوکریوں اور متعدد نان گزیٹیڈ ملازمتیں مختص کی گئی ہیں۔سرمد حفیظ نے محکمہ کی حوصلہ اَفزائی کی کہ وہ کھیلوں کی سرگرمیوں میں خواتین اور معمر اَفراد کی شرکت کو چیف سیکرٹری کے ویژن کے مطابق اور مقامی کھیلوں کی شناخت ور فروغ دینے کو یقینی بنائیں۔سیکرٹری موصوف نے جسمانی تعلیم پر توجہ دینے اور طلباء میں اخلاقی تعلیم دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے محکمہ کے عملے سے کہا کہ وہ کھیل سرگرمیوں میں سکولی بچوں کی شرکت کی حوصلہ اَفزائی کے لئے اِختراعی اقدامات کریں۔اُنہوں نے تمام شراکت داروں کوحالیہ برسوں میں بڑھی ہوئی شرکت پر مبارک باد بھی دی۔اُنہوں نے شراکت داروں کو یقین دِلایا کہ کھیل سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے ، اِس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ کھیل نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتوںاور جوش و جذبے کو اُبھار سکتے ہیں ،منشیات کی لت سے بچنے ، اعتماد پیدا کرنے اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں ۔اُنہوں نے محکمہ کو لائف سیونگ اور ایمرجنسی رسپانس سکلز جیسی زندگی کی مہارتیں فراہم کرنے کا بھی مشورہ دیا۔اِس موقعہ ڈی جی وائی ایس ایس سبھاش سی چھبر کی طرف سے ایک پرزنٹیشن بھی پیش کی گئی جس کے ذریعے اُنہوں نے محکمہ حصولیابیوں ، اِس کی منصوبہ بند سرگرمیوں اور کھیل سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے ہدف کے بارے میں بتایا۔اِس موقعہ پر سیکرٹری جے کے سپورٹس کونسل نزہت گل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیر نے کھیلوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے ۔برسوں کے دوران جموںوکشمیر یوٹی نے22قومی سطح کے مقابلوں کی میزبانی کی جس میں کھیلواِنڈیا سرمائی کھیل اور بین الاقوامی پینکنک سلات چمپئن شپ شامل ہیں۔محترمہ نزہت گل نے جموں و کشمیر سپورٹس پالیسی کو اُجاگر کرنے اور اس کے تحت کھلاڑیوں کو یقینی بنائے گئے مختلف فوائد کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ تقریباً 25,000 بچوں نے قومی سطح پر 56 شعبوں میں جموںوکشمیر یوٹی کی نمائندگی کی ہے، 687 قومی سطح کے تمغے اور 38 بین الاقوامی سطح کے تمغے جیتے ہیں۔ جموں و کشمیر نے کچھ بہترین فینسر، جمناسٹ، اولمپین اور پیرا اولمپین پیدا کئے ہیں۔محکمہ نے گذشتہ ڈھائی برسوں میں 700 پروجیکٹ فراہم کئے ہیں جن میں جموںوکشمیر یوٹی بھر میں 60لائٹ سٹیڈیم شامل ہیں اور فی الحال نو ایسٹروٹرف پروجیکٹوں پر کام کر رہا ہے۔تقریب میں سپیشل سیکرٹری نریش کمار اور راکیشن منگوترا ، ڈائریکٹر اقتصادیات اور شماریات اشو گپتا ، ایڈیشنل سیکرٹری وائی ایس ایس نیلم کھجوریہ ، جوائنٹ ڈائریکٹر وائی ایس ایس جموں سورم چند شرمااور ڈپٹی ڈائریکٹر سینٹرل وائی ایس ایس جتندر مشرا کے علاوہ دیگر اَفسران نے شرکت کی۔اِس تقریب میں مختلف شراکت داروں بشمول ڈسٹرکٹ یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس اَفسارن ، زونل فزیکل ایجوکیشن اَفسران اور فزیکل ایجوکیشن اکیڈمک سٹاف نے بھی شرکت کی۔










