hospital

شیر باغ اننت ناگ کے زچہ بچہ ہسپتال کو منتقل کرنے کی مانگ

سرینگر// جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گنجان آبادی والے علاقہ شیر باغ میں قائم 40 بستروں کی صلاحیت والے میٹرنٹی اینڈ چائلڈ کیئر ہسپتال (ایم سی سی ایچ) میں ماہانہ اوسطا 40 ہزار سے زیادہ مریض او پی ڈی، OPD جبکہ 7ہزار کے قریب مریض داخلہ خدمات کے لیے آتے ہیں۔ زچہ بچہ ہسپتال میں جگہ کی کمی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث نہ صرف مریضوں اور تیمارداروں بلکہ طبی اور نیم طبی عملہ کو بھی کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے نمائندے کے مطابق زچہ بچہ اسپتال اننت ناگ میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی خصوصاً جگہ کی قلت کے سبب بیشتر حاملہ خواتین اور نو زائد بچوں کو سرینگر ریفر کیا جاتا ہے۔ جبکہ یہ اسپتال نہ صرف جنوبی کشمیر کا واحد زچہ بچہ ہسپتال ہے بلکہ وادی چناب اور خط پیر پنجال کے لوگوں کی طبی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔ہسپتال میں روزانہ مریضوں اور تیمارداروں کا کافی ہجوم رہتا ہے، ستم ظریفی یہ کہ زچہ بچہ ہسپتال میں بنیادی سہولیات کی کمی، جگہ کی تنگی کے علاوہ صفائی کا ناقص انتظام ہے وہیں ڈرینج نظام بھی ناکارہ ہو چکا ہے۔ جس سے یہاں آنے والے مریضوں اور تیمارداروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہسپتال کے اندر چوہے اور باہر صحن میں آوارہ کتے گھومتے رہتے ہیں۔ ہسپتال میں کئی ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں جس دوران چوہوں نے نوزائد بچوں جبکہ آوارہ کتوں نے کئی تیمارداروں کو زخمی کر دیا ہے۔ہسپتال کا کام کاج اس وقت قدیم عمارت میں چلایا جا رہا ہے جسے ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کی جانب سے کئی بار غیر محفوظ بھی قرار دیا جاچکا ہے۔ تاہم اس کے باوجود ہسپتال میں معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے ایم سی سی ایچ ہسپتال کو رحمت عالم ہسپتال میں منتقل کرنے کی منظوری بھی دی گئی تھی۔ تاہم کروڑوں روپے کی رقم خرچ کرنے کے بعد آخری مرحلہ میں رحمت عالم ہسپتال کو بھی غیر محفوظ قرار دیا گیا۔ جس کی وجہ سے زچہ بچہ ہسپتال کی منتقلی ممکن نہ ہو کسی۔حکام کی اس لاپرواہی اور غیر سنجیدگی کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ لوگوں نے حکام سے زچہ بچہ ہسپتال کو فوری طور پر محفوظ اور کشادہ جگہ پر منتقل کرنے کی مانگ کی ہے۔نمائندے امان ملک نے پانچ مہینے پہلے جب یہ معاملہ گورنمنٹ میڈیکل کالج و اسپتال اننت ناگ کے پرنسپل ڈاکٹر سید طارق قریشی کی نوٹس میں لایا تھا اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے ہسپتال کی منتقلی کے حوالے سے سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر قریشی نے یقین دہانی کرائی تھی کہ مارچ میں ہسپتال کو دوسری جگہ پر منتقل کیا جائے گا لیکن پانچ مہینے گزرنے کے باوجود زچہ بچہ ہسپتال ابھی تک منتقل نہیں ہوا۔