مرکزی وزیر مملکت درشنا جردوش نے پی آر آئیز اور ضلعی ایڈمنسٹریشن کٹھوعہکے ساتھ سلسلہ وار میٹنگوں کی صدارت کی

ویلیو ایڈیشن ، کاریگروں کی تربیت ، مارکیٹ لنکیجز، ای کامرس پلیٹ فارم پر توجہ مرکوز کرنے پر زور

کٹھوعہ //ریلوے اور ٹیکسٹائل کی مرکزی وزیر مملکت درشنا جردوش کی صدارت میں آج سی ڑی ایم کے کانفرنس ہال میں ہینڈ لوم اور دستکاری کے محکمے کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے ایک جائیزہ اجلاس منعقد ہوا ۔ میٹنگ کے دوران وزیر نے مارکیٹ لنکیجز اور ای کامرس پلیٹ فارم کے علاوہ قدر میں اضافے اور کاریگروں کی تربیت پر توجہ دینے کی اہمیت پر زور دیا ۔ وزیر نے پیداوار سے تقسیم تک ایک مکمل ماحولیاتی نظام کی ترقی پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے خود انحصار ہندوستان بنانے کے حکومت کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے ہینڈ لوم اینڈ ہینڈی کرافٹ ڈیپارٹمنٹ پر زور دیا کہ وہ دستکاروں کو ضروری تربیت اور وسائل فراہم کر کے اس مقصد کیلئے کام کریں تا کہ ان کی مہارتوں اور صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد ملے ۔ محترمہ جردوش نے ریلوے سٹیشنوں پر او ڈی او پی ( ایک ضلع ایک پروڈکٹ ) کے سٹال قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جو نہ صرف دستکاروں کو اپنی مصنوعات کی نمائش کیلئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا بلکہ مقامی دستکاری اور ہینڈ لوم کو فروغ دینے میں بھی مدد گار ثابت ہو گا ۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سے نہ صرف کاریگروں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ مقامی معیشت کو بھی مدد ملے گی ۔ وزیر نے مزید کہا کہ گِفٹ پیکجنگ میں کاریگروں کو تربیت دی جائے جس سے وہ اپنی مصنوعات کیلئے پر کشش پیکجنگ فراہم کر سکیں گے اور اس طرح ان کی مارکیٹیبلٹی میں اضافہ ہو گا ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی تربیت سے نہ صرف دستکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہو گا بلکہ ’میک ان انڈیا ‘پہل کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی ۔ محترمہ جردوش نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہینڈ لوم اور دستکاری کا محکمہ حکومت کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے ضروری اقدامات کرے گا اور دستکاروں کو خود انحصار ہندوستان کی تعمیر کیلئے ان کی کوششوں میں حکومت کی مسلسل حمایت کا یقین دلایا ۔ خطے میں ٹیکسٹائل کو فروغ دینے کیلئے مرکزی اور یو ٹی سطح کی ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی لانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیر نے مشترکہ کوششیں کرنے پر زور دیا تا کہ مقامی فن پاروں کی برآمدات کو بڑھانے کے علاوہ مجموعی نتائج کو بہتر بنایا جا سکے ۔ قبل ازیں مرکزی وزیر مملکت نے پشمینہ ، بسوہلی پینٹنگز اور دیگر دستکاریوں کے کاریگروں کے ساتھ بات چیت کی ۔ وزیر نے ممتاز شاہ پور کنڈی ڈیم پروجیکٹ کا بھی تفصیلی جائیزہ لیا جس میں انہیں جاری کام کی صورتحال اور جموں و کشمیر کی آبپاشی کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے والے پروجیکٹ سے حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں بتایا گیا ۔ انہیں ضلع میں جاری دیگر پروجیکٹوں کے بارے میں بھی بتایا گیا جن میں دہلی امرتسر کٹرا ایکسپریس وے اور شمالی ہندوستان کا پہلا بائیو ٹیک پارک شامل ہیں جو آنے والے وقتوں میں ضلع کے ترقیاتی پروفائل کو تبدیل کر دیں گے ۔ بعد میں وزیر مملکت نے چڈوال کے قریب این ایچ اے آئی ایکسپریس وے کے جاری کاموں کا معائینہ کیا ۔