اپریل ،مئی2024میںپارلیمانی انتخابات ،اگلے سال کے آخر میں اسمبلی انتخابات کی اُمید
سری نگر//جموں وکشمیرمیں سال رواں کے آخر سے مختلف نوعیت کے انتخابات کی گہما گہمی کاامکان ہے ،کیونکہ نومبر دسمبر2023میں موجودہ پنچایتوں اور بلدیاتی(میونسپل) اداروںکی معیاد مکمل ہوجائے گی ،اورمعیاد مکمل ہونے سے پہلے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کرائے جانے کاقوی امکان ہے ۔قابل ذکر ہے کہ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے بھی پیرکے روزاسبات کاواضح اشارہ دیاکہ جموں وکشمیرمیں پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات امسال اکتوبر ،نومبر میں ہی کرائے جائیں گے۔خیال رہے جموں وکشمیرمیں پنچایتی انتخابات آخری مرتبہ نومبر دسمبر2018اور بلدیاتی انتخابات اکتوبر،نومبر2018میں کرائے گئے تھے ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیرمیں سال رواں کے آخر سے اگلے سال کے آخرتک مختلف نوعیت کے چار انتخابات کرائے جانے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں ۔حکومتی سطح پر اسبات کاجائزہ لیاجارہاہے کہ مرکزی زیرانتظام علاقے میں رواں سال ماہ اکتوبر ،نومبر میں پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات ایک ساتھ یا وقفے وقفے سے کرائے جائیں ۔میڈیا رپورٹس میں حکومتی ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے یہ رپورٹ کیا جارہاہے کہ جموں وکشمیرکی حکومت نے امسال کے آخرمیں پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کرائے جانے کے بارے میں چیف الیکٹورل آفس کواپنی خواہش اورارادے سے آگاہ کردیاہے ،اور اب چیف الیکٹورل آفس کی جانب سے نچلی سطح کے ان دونوں انتخابات کیلئے تیاریوں اور ضروری لوازمات کاجائزہ لینا شروع کردیاگیا ہے ۔خیال رہے جموں وکشمیرمیں آخری مرتبہ پنچایتی انتخابات نومبر دسمبر2018اور بلدیاتی انتخابات اکتوبر،نومبر2018میں کرائے گئے تھے ،اور ان دونوں اداروں کیلئے منتخب عوامی نمائندوں کی معیاد رواں سال کے آخر میں مکمل ہونے والی ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ بھی اسبات کے حق میں ہے کہ جموں وکشمیرمیں پنچایتی اور میونسپل(بلدیاتی) انتخابات رواں سال کے آخر میں کرائے جائیں ،تاکہ نچلی سطح پر جمہوری اداروںکو مزید مضبوطی اوراستحکام مل سکے ۔رواں سال کے آخر میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کاعمل مکمل ہونے کے بعد جموں وکشمیر کی انتظامیہ پارلیمانی انتخابات کی تیاریوںمیں جٹ جائے گی ،کیونکہ ملک میں اگلے سال اپریل ،مئی2024میں پارلیمانی یعنی لوک سبھا کے انتخابات ہونے والے ہیں ۔سیاسی تجزیہ نگاروںکی رائے ہے کہ جموں وکشمیرمیں پارلیمانی انتخابات یعنی مرکز میں نئی سرکار تشکیل پانے کے بعد ہی اسمبلی انتخابات کرائے جاسکتے ہیں ،اور اپریل مئی2024میں پارلیمانی انتخابات کاعمل مکمل ہونے اور اگلے ایک یادومہینوںمیں مرکزمیں نئی سرکار بننے کے بعد ہی جموں وکشمیرمیں اسمبلی انتخابات سال2024کے آخر میں کرائے جائیں گے ۔قابل ذکر ہے کہ کچھ روز قبل سابق نائب وزیراعلیٰ مظفرحسین بیگ نے بھی یہی امکان ظاہر کیاکہ جموں وکشمیرمیں اسمبلی انتخابات اگلے سال مرکز میں نئی سرکار بننے کے بعد ہی کرائے جاسکتے ہیں ۔خیال رہے جموں وکشمیرمیں آخری مرتبہ اسمبلی الیکشن 2014میں کرائے گئے تھے ،اوران انتخابات میں کشمیر سے پی ڈی پی اورجموں صوبے سے بی جے پی نے بیشتر سیٹیں جیت کر ملی جلی یامخلوط سرکار بنائی تھی ،جو بی جے پی کی جانب سے حمایت واپس لینے کے بعد جون 2018میں ختم ہوگئی تھی ،اورتب سے جموں وکشمیرمیں گورنرراج جاری ہے ۔










